مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 220

مکتوب نمبر۲۲ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس وقت مجھ کو آپ کا عنایت نامہ ملا۔اس کو پڑھ کر اس قدر خوشی ہوئی کہ اندازہ سے باہر ہے۔مجھے اوّل سے معلوم ہے کہ نور محمد کی لڑکی کی شکل اچھی نہیں ا ور نہ ان لوگوں کی معاشرت اچھی ہے۔اگر سادات میں سے کوئی لڑکی ہوجو شکل اور عقل میں اچھی ہو تو اس سے کوئی امر بہتر نہیں۔اگر یہ نہ ہو سکے تو پھر کسی دوسری شریف قوم میں سے ہو۔مگر سب سے اوّل اس کے لئے کوشش چاہئے اور جہاں تک ممکن ہو جلد ہونا چاہئے۔ا گر ایسا ظہور میں آگیا تو مولوی صاحب کے تعلقات کوٹلہ سے پختہ ہوجائیںگے اور اکثر وہاں رہنے کا بھی اتفاق ہو گا۔یہ بڑی خوشی کی بات ہے اور چند ہفتہ میں یہ مبارک کام ظہور میں آئیں تو کیا تعجب ہے کہ یہ عاجز بھی اس کارخیر میں مولوی صاحب کے ساتھ کوٹلہ میں آوے۔سب امر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔امیدکہ پوری طرح آں محب کوشش فرماویں۔کیونکہ یہ کام ہونا نہایت مبارک امرہے۔خدا تعالیٰ پوری کر دیوے۔آمین ثم آمین۔اس عاجز نے دوسو روپیہ آں محب سے طلب کیا ہے۔اینٹوں کی قیمت اور معماروں کی اجرت میں۔برسات اب سر پر ہے۔اگر اس وقت تکلیف فرما کر ارسال فرماویں تواس غم سے کہ ناگہانی طور پر میرے سر پر آگیا ہے مجھے نجات ہو گی۔مجھے ایسی عمارات سے طبعاً کراہت اور سخت کراہت ہے۔اگر آپ کی نیت درمیان نہ ہوتی تو میں کجا اور ایسے بیہودہ کام کجا۔آپ کی نیت نے یہ کام شروع کرایا۔مگر افسوس اس وقت تک یہ بیکار ہے جب تک کہ اوپر کی عمارت نہ ہو۔عمارت کے وقت تو یہ شعر نصب العین رہتا ہے۔عمارت در سرائے دیگر انداز کہ دنیا را اساسے نیست محکم ۱۸۹۷ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ از قادیان