مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 217
مکتوبات احمد ۲۱۷ جلد دوم مکتوب نمبر ۲۰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی نواب صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بقیہ دو قطعہ نوٹ سو سو روپیہ آج کی ڈاک میں مجھ کو پہنچ گئے ۔ جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا پہلے اس سے بذریعہ ایک خط کے آپ کی خدمت میں اطلاع دی گئی تھی کہ علاوہ حساب اس جگہ کے جو چند ہفتوں کا بابت قیمت اینٹ و اُجرت معماران واجب الادا ہے۔ مبلغ اسی رو پید اور بابت لکڑی کے ہمارے ذمہ نکل آئے ہیں اگر بالفعل ایک سو روپیہ اور پہنچ جائے تو چند ہفتہ تک پھر اس کشاکش سے مخلصی رہے ۔ یہ عمارت کا کام ہے ا ہے ایسی ہی تکالیف سان ساتھ رکھتا ہے۔ میر ہے۔ میرا دل پہلے سے رُکتا تھا کہ اس کو شروع کروں مگر قضاء و قدر سے شروع ہو گیا ۔ اللہ تعالیٰ اب اس کو انجام دیوے ۔ دوسری منزل جو اصل مقصود تھی وہ بالفعل بباعث عدم سر ما یہ ملتوی رہے گی ۔ آئندہ اللہ تعالیٰ جو چاہے ہو گا ۔ عدم کل کے آں محب کا خدمت گار پہنچا۔ سفیر نے خود آرزو کی تھی کہ میں کوٹلہ مالیر دیکھوں ۔ مجھے اس کی حقیقت پر اطلاع نہیں کہ وہ کیوں پھرتا ہے اور اس شہر بشہر کے دورہ سے اُس کی غرض کیا ہے اور میں اُس کی نسبت کوئی رائے ظاہر نہیں کر سکتا ۔ آپ پر لازم ہے کہ آپ قواعد ریاست سے اِدھر اُدھر نہ ہوں اور سرکاری ہدایات کے پابندر ہیں ۔ شاید اگر مسافروں کی طرح آ جائے تو قومیت کے لحاظ سے معمولی خاطر داری میں مضائقہ نہیں مگر جو ریاست کی طرف سے اعزاز ہوتا ہے وہ کسی صورت میں بغیر اجازت گورنمنٹ نہیں چاہئے تا خواہ نخواہ اعتراض نہ ہوا اور کوئی امتحان پیش نہ آوے بلکہ قوانین تاخواہ ہو اور نہ کی رعایت سے معمولی اخلاق کا برتاؤ کچھ مضائقہ نہیں ۔ کریماں مسافر بجاں بردر اند که نام نگو شاں بعالم برند لے اصل مکتوب میں نیا پیرا نہیں ۔ چونکہ اگلا مضمون الگ ہے اس لئے یہاں نیا پیرا شروع کر دیا گیا ہے۔