مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 213

مکتوبات احمد ۲۱۳ مکتوب نمبر ۱۷ ملفوف جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کل کی ڈاک میں آں محب کا عنایت نامہ مجھ کو ملا ۔ آپ کی محبت اور اخلاص اور ہمدردی میں کچھ شک نہیں ۔ ہاں میں ایک استاد کی طرح جو شاگردوں کی ترقی چاہتا ہے۔ آئندہ کی زیادہ قوت کے لئے اپنے مخلصوں کے حق میں ایسے الفاظ بھی استعمال کرتا ہوں جن سے وہ متنبہ ہو کر اپنی اعلیٰ سے اعلیٰ قوتیں ظاہر کریں اور دعا یہی کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی کمزوریاں دور فرمادے۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس دنیا کا تمام کاروبار اور اس کی نمائش اور عزتیں حباب کی طرح ہیں اور نہایت سعادت مندی اسی میں ہے کہ پورے جوش سے اور پوری صحت کے ساتھ دین کی طرف حرکت کی جائے اور میرے نزدیک بڑے خوش نصیب وہ ہیں کہ اس وقت اور میری آنکھوں کے سامنے دکھ اٹھا کر اپنے سچے ایمان کے جوش دکھاویں۔ مجھے خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس زمانہ کے لئے تجھے گواہ کی طرح کھڑا کروں گا۔ پس کیا خوش نصیب ہے وہ شخص جس کے بارے میں اچھی گواہی ادا کر سکوں ۔اس لئے میں بار بار کہتا ہوں کہ خدا کا خوف بہت دل میں بڑھا لیا جائے ۔ تا اس کی رحمتیں نازل ہوں اور تا وہ گناہ بخشے ۔ آپ کے دو خط آنے کے بعد ہمارے اس جگہ کے دوستوں نے اس رائے کو پسند کیا کہ جو زنا نہ گھر کے حصہ مغربی کے مکانات کچے اور دیوار کچی ہے۔ اس کو مسمار کر کے اس کی چھت پر مردانہ مکان تیار ہو جائے اور نیچے کا مکان بدستور گھر سے شامل رہے۔ چنانچہ حکمت الہی سے یہ غلطی ہو گئی کہ وہ کل مکان مسمار کر دیا گیا۔ اب حال یہ ہے کہ مردانہ مکان تو صرف او پر تیار ہو سکتا ہے اور زنانہ مکان جو تمام گرایا گیا ہے ۔ اگر نہایت ہی احتیاط اور کفایت سے اس کو بنایا جاوے تو شاید ہے کہ آٹھ سو روپیہ تک بن سکے ۔ کیونکہ اس جگہ اینٹ پر دوہری قیمت خرچ ہوتی ہے اور مجھے یقین نہیں کہ چار سور و پیر کی لکڑی آکر بھی کام ہو سکے ۔ بہر حال یہ پہلی منزل اگر تیار ہو جائے تو بھی بیکار ہے۔ جب تک دوسری منزل اس پر نہ پڑے ۔ کیونکہ مردانہ مکان اسی چھت پر پڑ گیا اور چونکہ پر ایک حصہ مکان گرنے سے گھر بے پردہ ہو رہا ہے اور آج کل ہندو بھی قتل وغیرہ کے لئے بہت کچھ