مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 210

آپ ان دنوں میں دنیوی ہمّ و غم میں اعتدال سے زیادہ مصروف ہیں اور دوسرا پلّہ ترازو کا کچھ خالی سا معلوم ہوتا ہے۔میں نہیں جانتا کہ یہ تحریریں آپ کے دل پر کیا اثر کریں یا کچھ بھی اثر نہ کریں۔کیونکہ بقول آپ کے وہ اعتقادی امر بھی اب درمیان نہیں جو بظاہر پہلے تھا۔میں نہیں چاہتا کہ ہماری جماعت میں سے کوئی بھی ہلاک ہو۔بلکہ چاہتا ہوں کہ خود خدا تعالیٰ قوت بخشے اور زندہ کرے۔کاش اگر ملاقات کی ہی سرگرمی آپ کے دل میں باقی رہتی تو کبھی کبھی کی ملاقات سے کچھ فائدہ ہو جاتا۔مگر اب یہ امید بھی مشکلات میں پڑ گئی کیونکہ اعتقادی محرک باقی نہیں رہا۔اگر کوئی لاہور وغیرہ میں کسی انگریز حاکم کا جلسہ ہو جس میں خیالی طور پر داخل ہونا آپ اپنی دنیا کے لئے مفید سمجھتے ہوں تو کوئی دنیا کاکام آپ کو اس شمولیت سے نہیں روکے گا۔خدا تعالیٰ قوت بخشے۔بیچارہ نورالدین جو دنیاکو عموماً لات مار کر اس جنگل قادیان میں آبیٹھا ہے، بے شک قابلِ نمونہ ہے۔بہتیری تحریکیں ہوئیںکہ آپ لاہور میں رہیں اور امرتسر میں رہیں۔دنیاوی فائدہ طبابت کی رو سے بہت ہوگا۔مگر کسی کی بات انہوں نے قبول نہیں فرمائی۔میں یقینا سمجھتا ہوں کہ انہوں نے سچی توبہ کر کے دین کو دنیا پر مقدم رکھ لیا ہے۔خد اتعالیٰ ان کو شفاء بخشے اور ہماری جماعت کو توفیق عطا کرے کہ ان کے نمونہ پر چلیں آمین۔کیا آپ بالفعل اس قدر کام کر سکتے ہیں کہ ایک ماہ کے لئے اور کاموں کو پس انداز کر کے مرزا خدابخش صاحب کو ایک ماہ کے لئے بھیج دیں۔والسلام ٭ ۲۸؍ اپریل ۱۸۹۵ء خاکسار غلام احمد ۱ز قادیان نوٹ:۔آتھم کی پیشگوئی پر حضرت نواب صاحب کو ابتلا آیا تھا اور انہیں کچھ شکوک پید ا ہوئے تھے۔مگر وہ بھی اخلاص اور نیک نیتی پر مبنی تھے۔وہ ایک امر جوان کی سمجھ میں نہ آوے ماننا نہیں چاہتے تھے اور اسی لئے انہوں نے حضرت اقدس کو ایسے خطوط لکھے ہیں جن سے یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ گویا کوئی تعلق سلسلہ سے باقی نہ رہے گا۔مگر خدا تعالیٰ نے انہیں ضائع نہیں کیا اپنی معرفت بخشی اور ایمان میں قوت عطا فرمائی۔(عرفانی)