مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 209

مکتوب نمبر۱۴ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی اخویم نواب صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مولوی صاحب کو کل ایک دورہ مرض پھر ہوا۔بہت دیر تک رہا۔مالش کرانے سے صورت افاقہ ہوئی مگر بہت ضعف ہے۔ا للہ تعالیٰ شفا بخشے۔اس جگہ ہماری جماعت کا ایک قافلہ تحقیق اَلْسِنَہ کے لئے بہت جوش سے کام کر رہا ہے اور یہ اسلام کی صداقت پرایک نئی دلیل ہے جو تیرہ سو برس سے آج تک کسی کی اس طرف توجہ نہیں ہوئی۔اس مختصر خط میں مَیں آپ کو سمجھا نہیںسکتا کہ یہ کس پایہ کا کام ہے۔اگر آپ ایک ماہ تک اس خدمت میں مرزا خدابخش صاحب کوشریک کریں اور وہ قادیان میں رہیں تو میری دانست میں بہت ثواب ہو گا۔آئندہ جیسا کہ آپ کی مرضی ہو۔دنیا کے کام نہ تو کبھی کسی نے پورے کئے اور نہ کرے گا۔دنیا دار لوگ نہیں سمجھتے کہ ہم کیوں دنیامیں آئے اور کیوں جائیں گے؟ کون سمجھاوے جبکہ خدا تعالیٰ نے نہ سمجھایا ہو۔دنیا کے کام کرنا گناہ نہیں۔مگر مومن وہ ہے جودرحقیقت دین کو مقدم سمجھے اورجس طرح اس ناچیز اور پلید دنیا کے کام یا سببوں کے لئے دن رات سوچتا یہاں تک کہ پلنگ پر لیٹے بھی فکر کرتا ہے اور اس کی ناکامی پر سخت رنج اٹھاتا ہے۔ایسا ہی دین کی غمخواری میں مشغول رہے۔دنیا سے دل لگانا بڑا دھوکا ہے۔موت کاذرا اعتبار نہیں۔موت ہریک آئے سال نئے کرشمے دکھلاتی رہتی ہے۔دوستوں کو دوستوں سے جد اکرتی اور لڑکوں کو باپوں سے، اور باپوں کو لڑکوں سے علیٰحدہ کر دیتی ہے۔مورکھ وہ انسان ہے جو اس ضروری سفر کا کچھ بھی فکر نہیں رکھتا۔خدا تعالیٰ اس شخص کی عمر کو بڑھا دیتا ہے جو سچ مچ اپنی زندگی کاطریق بدل کر خدا تعالیٰ کا ہی ہو جاتا ہے۔ورنہ اللہ جلّشانہٗ فرماتا ہے۔ ۱؎ یعنی ان کو کہہ دو کہ خدا تعالیٰ تمہاری پرواہ کیا رکھتا ہے ا گر تم اس کی بندگی اور عبادت نہ کرو۔سو جاگنا چاہئے اور ہوشیار ہونا چاہئے اور غلطی نہیں کھانا چاہئے کہ یہ گھر سخت بے بنیاد ہے۔میں نے اس لئے لکھا کہ میں اگر غلطی نہیں کرتا تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ