مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 206
مکتوب نمبر۱۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عزیزی محبی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ آپ کا محبت نامہ پہنچا۔اس وقت صرف ایک ’’اشتہار دو ہزار روپیہ‘‘ جو شائع کیاگیاہے آپ کی خدمت میں بھیجتا ہوں اور دوسرے امور میںپھر کبھی انشاء اللہ القدیر مفصل خط لکھوں گا۔حاجی سیٹھ عبدالرحمن نے تار کے ذریعہ سے مجھ کو خبر دی کہ میں مخالف کی درخواست پر ایک ہزار روپیہ بلاتوقف دے دوں گا اور امید ہے کہ وہ دو ہزار روپیہ بھی قبول کر لیں گے۔ورنہ یقین ہے کہ ایک ہزار روپیہ مولوی حکیم نورالدین صاحب دے دیں گے چنانچہ اس بارے میں مولوی صاحب کا خط بھی آ گیا ہے۔غرض بہرحال دو ہزار روپیہ کا ایسا بندوبست ہو گیا ہے کہ بمجرد درخواست آتھم صاحب بلاتوقف دیاجائے گا۔چونکہ پیشگوئی کے دو پہلو تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے میرے پر اپنے صریح الہام سے ظاہر کر دیا ہے کہ آتھم نے خوف کے ایام میں اسلام کی طرف رجوع کیا۔ہمیں اس سے بحث نہیں کہ اب وہ اپنے رجوع پر قائم نہیں۔کیونکہ دونوں فریق کی کتابوں سے یہ ثابت ہے کہ عادۃُ اللہ اسی طرح پر واقع ہے کہ جب کوئی خوف کے وقت میں اپنے دل میں حق کو قبول کر لے یا حق کے رُعب سے خوفناک ہو جائے تو اُس سے عذاب ٹل جاتا ہے گو وہ فرعون کی طرح خوف دور ہونے کے بعد پھر سرکشی ظاہر کرے۔غرض خوف کے دنوں میں حق کی طرف رجوع کرنا مانع نزولِ عذاب ہے خدا تعالیٰ کئی جگہ قرآن کریم میںفرماتا ہے کہ ہم نے فلاں فلاں قوم کا عذاب جو مقرر ہو چکا تھا ان کے خائف اور رجوع بحق ہونے کی وجہ سے ٹال دیا حالانکہ ہم جانتے تھے کہ پھر وہ امن پا کر کفر اور سرکشی کی طرف عود کریں گے۔پھر جب کہ یہ امر ایک مسلم فریقین اور قطع نظر تسلیم فریقین کے شرط میں داخل ہے تو ایک منصف کے نزدیک اس کا تصفیہ ہونا چاہئے اور جب کہ صورت تصفیہ بجز آتھم صاحب کی قسم اور آسمانی فیصلہ کے اور کوئی نہیں تو اس طریق سے گریز کرنا حق سے گریز ہے۔والسلام خاکسار ۲۲؍ اگست ۱۸۹۴ء غلام احمد عفی عنہ