مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 207
نوٹ از مرتب: دو ہزار انعام والے اشتہار کی تاریخ ۲۰؍ ستمبر ۹۴ تھی بلکہ آتھم والی پیشگوئی کی میعاد ہی ۴؍ ستمبر کو ختم ہوتی تھی اس لئے یہ مکتوب ۲۲؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کا ہے گو سہواً اس پر ۲۲؍ اگست کی تاریخ درج ہوئی ہے۔٭٭٭ مکتوب نمبر۱۳ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی نواب صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ باعث تکلیف دہی یہ ہے کہ چونکہ اس عاجز نے پانچ سو روپیہ آں محب کا قرض دینا ہے۔مجھے یاد نہیں کہ میعاد میں سے کیا باقی رہ گیاہے اور قرضہ کاایک نازک اور خطرناک معاملہ ہوتا ہے۔میرا حافظہ اچھا نہیں۔یاد پڑتا ہے کہ پانچ برس میں ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کتنے برس گزر گئے ہوں گے۔عمر کا کچھ اعتبار نہیں۔آپ براہ مہربانی اطلاع بخشیں کہ کس قدر میعاد باقی رہ گئی ہے۔تاحتی الوسع اس کافکر رکھ کر توفیق بار ی تعالیٰ میعاد کے اندر اندر اد اہو سکے۔اور اگر ایک دفعہ نہ ہوسکے تو کئی دفعہ کر کے میعاد کے اندر بھیج دوں۔امید کہ جلد اس سے مطلع فرماویں تا میں اس فکر میں لگ جائوں۔کیونکہ قرضہ بھی دنیا کی بلائوں میں سے ایک سخت بلاہے اور راحت اسی میں ہے کہ اس سے سبکدوشی ہو جائے۔دوسری بات قابل استفسار یہ ہے کہ مکرمی اخویم مولوی سید محمد احسن صاحب قریباً دو ہفتہ سے قادیان تشریف لائے ہوئے ہیں اور آپ نے جب آپ کا اس عاجز کا تعلق اور حسن ظن تھا۔بیس روپیہ ماہوار ان کو اسی سلسلہ کی منادی اور واعظ کی غرض سے دینا مقرر کیا تھا۔چنانچہ آپ نے کچھ عرصہ ان کودیا۔امید کہ اس کا ثواب بہرحال آپ کو ہوگا۔لیکن چند ماہ سے ان کو کچھ نہیں پہنچا۔اب اگر اس وقت مجھ کو اس بات کے ذکر کرنے سے بھی آپ کے ساتھ دل رُکتا ہے مگر چونکہ مولوی صاحب موصوف اس جگہ تشریف رکھتے ہیں۔اس لئے آپ جو مناسب سمجھیں میرے جواب کے خط میں اس کی نسبت تحریر کردیں۔حقیقت میں مولوی صاحب نہایت صادق دوست اور عارف حقائق ہیں۔