مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 204

شخص کے دل میں کوئی شبہ پید اہو تو اسے قے کی طرح باہر نکال دینا چاہئے اگر اسے اندرہی رہنے دیا جائے تو بہت بُرا اثر پیدا کر تا ہے۔غرض حضرت نواب صاحب کے اس سوال سے جو انہوں نے حضرت اقدس سے کیا۔ان کے مقام اور مرتبہ پر کوئی مضر اثر نہیں پڑتا بلکہ ان کی شان کو بڑھاتا ہے اور واقعات نے بتا دیا کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے اپنے ایمان میں بہت بڑے مقام پر تھے۔اَللّٰھُمَّ زِدْ فَزِدْ۔(عرفانی) مکتوب نمبر۱۱ ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ محبی عزیزی اخویم نواب محمد علی خان صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ آں محب کا محبت نامہ پہنچا۔جو کچھ آپ نے اپنی محبت اور اخلاص کے جوش سے لکھا ہے درحقیقت مجھ کو یہی امید تھی اور میرے ظاہری الفاظ صرف اس غرض سے تھے کہ تا میں لوگوں پر یہ ثبوت پیش کروں کہ آں محب اپنے دِلی خلوص کی وجہ سے نہایت استقامت پر ہیں۔سو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہ میں نے آپ کو ایسا ہی پایا۔میں آپ سے ایسی محبت رکھتا ہوں جیسا کہ اپنے فرزند عزیز سے محبت ہوتی ہے اور دُعا کرتا ہوں کہ اس جہاں کے بعد بھی خدا تعالیٰ ہمیں دارالسلام میں آپ کی ملاقات کی خوشی دکھاوے اور جو ابتلا پیش آیا تھا وہ حقیقت میں بشری طاقتوں کو، اگر وہ سمجھنے سے قاصر ہوں، معذور رکھتاہے۔حدیبیہ کے قصہ میں ابن کثیر نے لکھا ہے کہ صحابہ کو ایسا ابتلا پیش آیا کہ کادوا ان یھلکوا یعنی قریب تھا کہ اُس ابتلا سے ہلاک ہو جائیں۔یہی ’’ہلاک‘‘ کا لفظ جو حدیث میں آیا ہے آپ نے استعمال کیا تھا۔گویا اس بے قراری کے وقت میں حدیث کے تلفظ سے توارد ہو گیا ہے۔بشری کمزوری ہے جو عمر فاروقؓ جیسے قوی الایمان کو بھی حدیبیہ کے ابتلا میں پیش آ گئی تھی۔یہاں تک کہ اُنہوں نے کہا کہ عملت لذالک اَعْمَالًا یعنی یہ کلمہ شک کا جو میرے منہ سے نکلا تو میں نے اس قصور کا تدارک صدقہ خیرات اور عبادت اور دیگر اعمالِ صالحہ سے کیا۔مولوی محمداحسن صاحب ایک جامع رسالہ بنانے کی فکر میں ہیں شاید جلد شائع ہو اور مولوی صاحب یعنی مولوی حکیم نوردین صاحب آپ سے ناراض نہیں ہیں آپ سے محبت رکھتے ہیں۔شاید مولوی صاحب کو