مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 204
مکتوبات احمد ۲۰۴ جلد دوم نوٹ از مرتب : دو ہزار انعام والے اشتہار کی تاریخ ۲۰ رستمبر ۹۴ تھی بلکہ آتھم والی پیشگوئی کی میعاد ہی ۴ رستمبر کو ختم ہوتی تھی اس لئے یہ مکتوب ۲۲ رستمبر ۱۸۹۴ء کا ہے گو ہوا اس پر ۲۲ را گست کی تاریخ درج ہوئی ہے ۔ ☆☆☆ مکتوب نمبر ۱۲ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی اخویم نواب صاحب سردار محمد علی خاں صاحب سلمہ تعالٰی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا عنایت نامہ مجھ کو آج کی ڈاک میں ملا ۔ آتھم کے زندہ رہنے کے بارے میں میرے دوستوں کے بہت خط آئے۔ لیکن یہ پہلا خط ہے جو تذبذب اور تر ڈ داور شک اور سوءظن سے بھرا ہوا تھا۔ ایسے ابتلا کے موقعہ پر جو لوگ اصل حقیقت سے بے خبر تھے جس ثابت قدمی سے اکثر دوستوں نے خط بھیجے ہیں۔ تعجب میں ہوں کہ کس قد رسوز یقین کا خدائے تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ڈال دیا اور بعض نے ایسے موقعہ پر نئے سرے بیعت کی ، اس نیت سے کہ تا ہمیں زیادہ ثواب ہو ( ان دوبارہ بیعت کرنے والوں میں چودہری رستم علی رضی اللہ عنہ کا نام مجھے معلوم ہے ۔ عرفانی ) بہر حال آپ کا خط پڑھنے سے اگر چہ آپ کے ان الفاظ سے بہت ہی رنج ہوا جن کے استعمال کی نسبت ہرگز امید نہ تھی ۔ لیکن چونکہ دلوں پر اللہ جل شانہ کا تصرف ہے اس لئے سوچا کہ کسی وقت اگر اللہ جل شانہ نے چاہا تو آپ کے لئے دعا کی ہے۔ نہایت مشکل یہ ہے کہ آپ کو اتفاق ملاقات کا کم ہوتا ہے اور دوست اکثر آمد و رفت رکھتے ہیں ۔ کتنے مہینوں سے ایک جماعت میرے پاس رہتی ہے ۔ جو کبھی پچاس ، کبھی ساٹھ اور کبھی سو سے بھی زیادہ ہوتے زیادہ ہوتے ہیں اور معارف سے اطلاع پاتے رہتے ہیں ۔ اور آپ کا خط کبھی خواب خیال کی طرح آجاتا ہے اور اکثر نہیں ۔ اب آپ کے سوال کی طرف توجہ کر کے لکھتا ہوں کہ جس طرح آپ سمجھتے ہیں ، ایسا نہیں ۔ بلکہ در حقیقت یہ فتح عظیم ہے۔ مجھے خدا تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ عبد اللہ آتھم نے حق کی عظمت قبول کر لی اور