مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 203

مکتوبات احمد ۲۰۳ جلد دوم مکتوب نمبر اا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عزیزی محبی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا محبت نامہ پہنچا۔ اس وقت صرف ایک اشتہار دو ہزار روپیہ“ جو شائع کیا گیا ہے آپ کی خدمت میں بھیجتا ہوں اور دوسرے امور میں پھر کبھی انشاء اللہ القدیر مفصل خط لکھوں گا۔ حاجی سیٹھ عبدالرحمن نے تار کے ذریعہ سے مجھ کو خبر دی کہ میں مخالف کی درخواست پر ایک ہزار روپیہ بلا توقف دے دوں گا اور امید ہے کہ وہ دو ہزار روپیہ بھی قبول کر لیں گے ۔ ورنہ یقین ہے کہ ایک ہزار روپیہ مولوی حکیم نورالدین صاحب دے دیں گے چنانچہ اس بارے میں مولوی صاحب کا خط بھی آ گیا ہے۔ غرض بہر حال دو ہزار روپیہ کا ایسا بند و بست ہو گیا ہے کہ بحجر د درخواست آتھم صاحب بلا توقف دیا جائے گا ۔ چونکہ پیشگوئی کے دو پہلو تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے میرے پر اپنے صریح الہام سے ظاہر کر دیا ہے کہ آتھم نے خوف کے ایام میں اسلام کی طرف رجوع کیا۔ ہمیں اس سے بحث نہیں کہ اب وہ اپنے رجوع پر قائم نہیں ۔ کیونکہ دونوں فریق کی کتابوں سے یہ ثابت ہے کہ عادة اللہ اسی طرح پر واقع ہے کہ جب کوئی خوف کے وقت میں اپنے دل میں حق کو قبول کر لے یا حق کے رعب سے خوفناک ہو جائے تو اُس سے عذاب ٹل جاتا ہے گو وہ فرعون کی طرح خوف دور ہونے کے بعد پھر سرکشی ظاہر کرے ۔ غرض خوف کے دنوں میں حق کی طرف رجوع کرنا مانع نزول عذاب ہے خدا تعالیٰ کئی جگہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم نے فلاں فلاں قوم کا عذاب جو مقر ر ہو چکا تھا ان کے خائف اور رجوع بحق ہونے کی وجہ سے ٹال دیا حالانکہ ہم جانتے تھے کہ پھر وہ امن پا کر کفر اور سرکشی کی طرف عود کریں گے۔ پھر جب کہ یہ امر ایک مسلم فریقین اور قطع نظر تسلیم فریقین کے شرط میں داخل ہے تو ایک منصف کے نزدیک اس کا تصفیہ ہونا چاہئے اور جب کہ صورت تصفیہ بجز آتھم صاحب کی قسم اور آسمانی فیصلہ کے اور کوئی نہیں تو اس طریق سے گریز کرناحق سے گریز ہے ۔ والسلام ۲۲ را گست ۱۸۹۴ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ