مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 200
مکتوبات احمد ۲۰۰ جلد دوم ۔ دعائیں کی جائیں ۔ مجھے ایسا الہام کسی امر کی نسبت ہو تو میں ہمیشہ سمجھتا ہوں کہ وہ ہونے والا ہے۔ اللہ جل شانہ طاقت سے زیادہ کسی پر بار نہیں ڈالتا بلکہ رحم کے طور پر تخفیف کرتا ہے اور ہنوز انسان پورے طور پر اپنے تئیں درست نہیں کرتا کہ اس کی رحمت سبقت کر جاتی ہے۔ گویا نیک بندوں کے لئے یہ بھی ایک امتحان ہوتا ہے۔ چونکہ اللہ جل شانہ بے نیاز ہے، نہ کسی کی اس کو حاجت ہے اور نہ کسی کی بہتری کی اس کو ضرورت ہے ۔ اس لئے جب فرماتا ہے کہ کسی بندہ پر فیضانِ نعمت کرے تو ایسے وسائل پیدا کر دیتا ہے جس کی رو سے اس نعمت کے پانے کے لئے اس بندہ میں استحقاق پیدا ہو جائے ۔ تب وہ بندہ خدا تعالیٰ کی نظر میں جو ہر قابل ٹھہر کر مور د رحم بننے کیلئے لیاقت پیدا کر لیتا ہے۔ سواس خیال سے بے دل نہیں ہونا چاہئے کہ ہم کیونکر باوجود اپنی کمزوریوں کے ایسے اعلیٰ درجہ کے اعمال صالحہ بجالا سکتے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کو راضی کر سکیں اور ہرگز خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ایسی شرط تعلیق بالمحال ہے کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو جن کیلئے خیر کا ارادہ فرماتا ہے آپ توفیق دے دیتا ہے۔ مثل مشہور ہے۔ ہمت مرداں مدد خدا۔ سو نیک کاموں کیلئے بدل و جان جہاں تک طاقت ہے متوجہ ہونا چاہئے ۔ خدا تعالیٰ کو ہر ایک چیز اور ہر ایک حال اور ہر یک شخص پر مقدم رکھ کر نماز با جماعت پڑھنی چاہئے کہ قرآن کریم میں بھی جماعت کی تاکید ہے ۔ اگر بانفراد نماز پڑھنا کافی ہوتا تو اللہ جل شانہ یہ دعا نہ سکھلاتا کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ بلکہ یہ سکھاتا اهْدِنِي الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ ۔۔۔۔ مَعَ الرَّاكِعِينَ اور وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا کے ان تمام آیات میں جماعت ۔ سو اللہ جل شانہ کے احکام میں کسی سے شرم نہیں کرنا چاہئے ۔ تقوی کے یہ معنی ہیں کہ اس قائم ہو جائے کہ پھر اس کے مقابل پر کوئی ناموس یا تک یا عار یا خوف خلق یا کسی کے لعن وطعن کی کچھ حقیقت نہ رکھے ۔ ایمان تقوی کے ساتھ زندہ ہوتا ہے اور جو شخص خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے شخص یا کسی دوسری چیز کو یا کسی دوسرے خیال کو کچھ حقیقت سمجھتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے وہ تقویٰ کے شعار سے بالکل بے بہرہ ہوتا ہے ۔ ہمارے لئے کامل خدا بس ہے ۔ والسلام ۲۵ مارچ ۱۸۹۳ء الفاتحه : ۶ ۲ التوبه : ۱۱۹ ال عمران: ۱۰۴ مرزا غلام احمد