مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 193
وہ کوئی تمنّا کرے۔یعنی اپنے نفس سے کوئی بات چاہے تو شیطان اس کی خواہش میں کچھ نہ ملاوے۔یعنی جب کوئی رسول یاکوئی نبی اپنے نفس کے جوش سے کسی بات کو چاہتا ہے تو شیطان اس میں بھی دخل دیتا ہے۔تب وحی متلو جو شوکت اور ہیبت اور روشنی تام رکھتی ہے اس دخل کو اٹھا دیتی ہے اور منشاء الٰہی کو مصفّا کرکے دکھلا دیتی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبی کے دل میںجو خیالات اٹھتے ہیں اور جو کچھ خواطر اس کے نفس میں پید اہوتی ہیںدرحقیقت وہ تمام وحی ہوتی ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم اس پر شاہد ہے۔۱؎ لیکن قرآن کی وحی دوسری وحی سے جو صرف معانی منجانب اللہ ہوتی ہیں تمیز کلّی رکھتی ہے اور نبی کے اپنے تمام اقوال وحی غیر متلوّ میں داخل ہوتے ہیں۔کیونکہ روح القدس کی برکت اور چمک ہمیشہ نبی کے شاملِ حال رہتی ہے اور ہر یک بات اس کی برکت سے بھری ہوئی ہوتی ہے اور وہ برکت روح القدس سے اس کلام میں رکھی جاتی ہے۔لہٰذا ہر یک بات نبی کی جو نبی کی توجہ تام سے اور اس کے خیال کی پوری مصروفیت سے اس کے منہ سے نکلتی ہے۔وہ بلا شبہ وحی ہوتی ہے۔تمام احادیث اسی درجہ کی وحی میں داخل ہیں۔جن کو غیر متلو وحی کہتے ہیں۔اب اللہ جلّشانہٗ آیت موصوفہ ممدوحہ میں فرماتا ہے کہ اس ادنیٰ درجہ کی وحی میں جو حدیث کہلاتی ہے۔بعض صورتوں میں شیطان کا دخل بھی ہوجاتا ہے اور وہ اس وقت کہ جب نبی کا نفس ایک بات کے لئے تمنّا کرتا ہے تو اس کا اجتہاد غلطی کرجاتا ہے اور نبی کی اجتہادی غلطی بھی درحقیقت وحی کی غلطی ہے کیونکہ نبی تو کسی حالت میں وحی سے خالی نہیں ہوتا۔وہ اپنے نفس سے کھویا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ایک آ لہ کی طرح ہوتا ہے۔پس چونکہ ہر یک بات جو اس کے منہ سے نکلتی ہے، وحی ہے۔اس لئے جب اس کے اجتہاد میں غلطی ہو گئی تو وحی کی غلطی کہلائے گی نہ اجتہاد کی غلطی۔اب خدائے تعالیٰ اسی کا جواب قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کبھی نبی کی اس قسم کی وحی جس کو دوسرے لفظوں میں اجتہاد بھی کہتے ہیں مسِّ شیطانی سے مخلوط ہوجاتی ہے۔اور یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب نبی کوئی تمنّا کرتا ہے کہ یوں ہوجائے۔تب ایسا ہی خیال اس کے دل میں گزرتا ہے جس پر نبی مستقل رائے قائم کرنے کے لئے ارادہ کرلیتا ہے۔تب فی الفور وحی اکبر جو کلام الٰہی اور وحی متلوّ اور مہیمن ہے نبی کو اس غلطی پر متنبّہ کر دیتی ہے اور وحی متلوّشیطان کے دخل سے بکلّی منزّہ ہوتی ہے