مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 189
مکتوبات احمد ۱۸۹ جلد دوم رہے احاد الناس کہ جو امام اور فضلا علم کے نہیں ہیں اور نہ ان کا فتوی ہے۔ ان کے لئے مجھے یہ حکم ہے کہ اگر وہ خارق دیکھنا چاہتے ہیں تو صحبت میں رہیں ۔ خدا تعالیٰ غنی ، بے نیاز ہے جب تک ۔ کسی میں تذلل اور انکسار نہیں دیکھتا اس کی طرف توجہ نہیں فرماتا ۔ لیکن وہ اس عاجز کو ضائع نہیں کرے ا رے گا اور اپنی حجت دنیا پر پوری کر دے گا اور کچھ زیادہ دیر نہیں ہوگی کہ وہ اپنے نشان دکھاوے گا۔ لیکن مبارک وہ جو نشانوں سے پہلے قبول کر گئے ۔ وہ خدائے تعالیٰ کے پیارے بندے ہیں اور وہ صادق ہیں جن میں دغا نہیں ۔ نشانوں کے مانگنے والے حسرت سے اپنے ہاتھوں کو کاٹیں گے کہ ہم کو رضائے الہی اور اس کی خوشنودی حاصل نہ ہوئی جوان بزرگ لوگوں کو ہوئی جنہوں نے قرائن سے قبول کیا اور کوئی نشان نہیں مانگا۔ سو یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اس سلسلہ کو بے ثبوت نہیں چھوڑے گا۔ وہ خود فرماتا ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے کہ :۔ 66 دنیا میں ایک نذیر آیا ، پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا ۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا ۔ جن لوگوں نے انکار کیا اور جو انکار کے لئے مستعد ہیں، ان کیلئے ذلت اور خواری مقدر ہے ۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر یہ انسان کا افترا ہوتا تو کب کا ضائع ہو جاتا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ مفتری کا ایسا دشمن ہے کہ دنیا میں ایسا کسی کا دشمن نہیں ۔ وہ بے وقوف یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ کیا یہ استقامت اور جرات کسی کتاب میں ہو سکتی ہے۔ وہ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ جو شخص ایک غیبی پناہ سے بول رہا ہے وہی اس بات سے مخصوص ہے کہ اس کے کلام میں شوکت اور ہیبت ہو۔ اور یہ اسی کا جگر اور دل ہوتا ہے کہ ایک فرد تمام جہان کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائے ۔ یقیناً منتظر رہو کہ وہ دن آتے ہیں بلکہ نزدیک ہیں کہ دشمن رو سیاہ ہوگا اور دوست نہایت ہی بشاش ہوں گے ۔ کون ہے دوست؟ وہی جس نے نشان دیکھنے سے پہلے مجھے قبول کیا اور جس نے اپنی جان اور مال اور عزت کو ایسا فدا کر دیا ہے کہ گویا اس نے ہزار ہا نشان دیکھ لئے ہیں۔ سوی میری جماعت ہے، اور میرے ہیں جنہوں نے مجھے کیا پایا اور میری مادی اور مجھے مکین دیکھا اور میرے غمخوار ہوئے اور ناشناسا ہو کر پھر آشناؤں کا سا ادب بجالائے خدا تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو۔ اگر نشانوں کے دیکھنے کے بعد کوئی کھلی صداقت کو مان لے گا تو مجھے کیا اور اس کو اجر کیا اور