مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 189

رہے احادُالنَّاس کہ جو امام اور فضلاء علم کے نہیں ہیں اور نہ ان کافتویٰ ہے۔ان کے لئے مجھے یہ حکم ہے کہ اگر وہ خارق دیکھنا چاہتے ہیں تو صحبت میں رہیں۔خدا تعالیٰ غنی، بے نیاز ہے جب تک کسی میں تذلّل اور انکسار نہیں دیکھتا اس کی طرف توجہ نہیں فرماتا۔لیکن وہ اس عاجز کو ضائع نہیں کرے گا اور اپنی حجت دنیاپر پوری کردے گا اور کچھ زیادہ دیر نہیں ہو گی کہ وہ اپنے نشان دکھاوے گا۔لیکن مبارک وہ جو نشانوں سے پہلے قبول کر گئے۔وہ خدائے تعالیٰ کے پیارے بندے ہیں اوروہ صادق ہیں جن میں دغا نہیں۔نشانوں کے مانگنے والے حسرت سے اپنے ہاتھوں کو کاٹیں گے کہ ہم کو رضائے الٰہی اور اس کی خوشنودی حاصل نہ ہوئی جوا ن بزرگ لوگوں کو ہوئی جنہوں نے قرائن سے قبول کیا اور کوئی نشان نہیں مانگا۔الٰہی اور اس کی خوشنودی حاصل نہ ہوئی جوا ن بزرگ لوگوں کو ہوئی جنہوں نے قرائن سے قبول کیا اور کوئی نشان نہیں مانگا۔سو یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اس سلسلہ کو بے ثبوت نہیں چھوڑے گا۔وہ خود فرماتا ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے کہ :۔’’دنیا میں ایک نذیر آیا، پر دنیا نے ا س کو قبول نہ کیا۔لیکن خدااسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔‘‘ جن لوگوں نے انکار کیا اور جو انکار کے لئے مستعد ہیں، ان کیلئے ذلّت اور خواری مقدر ہے۔انہوںنے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر یہ انسان کا افترا ہوتا تو کب کا ضائع ہوجاتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ مفتری کا ایسا دشمن ہے کہ دنیا میں ایسا کسی کا دشمن نہیں۔وہ بے وقوف یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ کیا یہ استقامت اور جرأت کسی کذّاب میں ہو سکتی ہے۔وہ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ جو شخص ایک غیبی پناہ سے بول رہا ہے وہی اس بات سے مخصوص ہے کہ اس کے کلام میں شوکت اور ہیبت ہو۔اور یہ اسی کا جگر اور دل ہوتا ہے کہ ایک فرد تمام جہان کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔یقینا منتظر رہو کہ وہ دن آتے ہیں بلکہ نزدیک ہیں کہ دشمن رو سیاہ ہو گا اور دوست نہایت ہی بشاش ہوں گے۔کون ہے دوست؟ وہی جس نے نشان دیکھنے سے پہلے مجھے قبول کیا اور جس نے اپنی جان اور مال اور عزت کو ایسا فدا کردیا ہے کہ گویا اس نے ہزارہا نشان دیکھ لئے ہیں۔سو یہی میری جماعت ہے، اور میرے ہیں جنہوں نے مجھے اکیلا پایا اور میری مدد کی اور مجھے غمگین دیکھا اور میرے غمخوار ہوئے اور ناشنا سا ہو کر پھر آشنائوں کا سا ادب بجا لائے خدا تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو۔اگر نشانوں کے دیکھنے کے بعد کوئی کھلی صداقت کو مان لے گا تو مجھے کیا اور اس کو اجر کیا اور