مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 185

مکتوبات احمد ۱۸۵ جلد دوم کے لئے پانی کی طرح انہوں نے اپنے مالوں کو بہا دیا ہے اور کروڑ ہا مخلوقات پر بداثر ڈالا ہے۔ تقریر سے تحریر سے، مال سے ، عورتوں سے ، گانے سے ، بجانے سے ، تماشے دکھلانے سے ، ڈاکٹر کہلانے سے ، غرض ہریک پہلو سے ، ہر یک طریق سے، ہر یک پیرا یہ سے ، ہر یک ملک پر انہوں نے اثر ڈالا ہے چنانچہ چھ کروڑ تک ایسی کتاب تالیف ہو چکی ہے جس میں یہ غرض ہے کہ دنیا میں نا پاک طریق عیسی پرستی کا پھیل جائے ۔ پس اس زمانہ میں دوسری مرتبہ حضرت مسیح کی روحانیت کو جوش آیا اور انہوں نے دوبارہ مثالی طور پر دنیا میں اپنا نزول چاہا اور جب ان میں مثالی نزول کے لئے اشد درجہ کی توجہ اور خواہش پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے اس خواہش کے موافق دجال موجودہ کے نابود کرنے کے لئے ایسا شخص بھیج دیا جو اُن کی روحانیت کا نمونہ تھا ۔ وہ نمونہ مسیح علیہ السلام کا روپ بن کر مسیح موعود کہلایا۔ کیونکہ حقیقت عیسویہ کا اس میں حلول تھا۔ یعنی حقیقت عیسو یہ اس سے متحد ہو گئی تھی اور مسیح کی روحانیت کے تقاضا سے وہ پیدا ہوا تھا ۔ پس حقیقت عیسو یہ اس میں ایسی منعکس ہو گئی جیسا کہ آئینہ میں اشکال ۔ اور چونکہ وہ نمونہ حضرت مسیح کی روحانیت کے تقاضا سے ظہور پذیر ہوا تھا اس لئے وہ عیسی کے نام سے موسوم کیا گیا کیونکہ حضرت عیسیٰ کی روحانیت نے قادر مطلق عزاسمہ سے بوجہ اپنے جوش کے اپنی ایک شبیہ چاہی اور چاہا کہ حقیقت عیسو یہ اس شبیہ میں رکھی جائے ۔ تا اس شبیہ کا نزول ہو ۔ پس ایسا ہی ہو گیا ۔ اس تقریر میں اس وہم کا بھی جواب ہے کہ نزول کے لئے مسیح کو کیوں مخصوص کیا گیا۔ یہ کیوں نہ کہا گیا کہ موسیٰ نازل ہوگا یا ابراہیم نازل ہوگا یا داؤ د نازل ہوگا۔ کیونکہ اس جگہ صاف طور پر کھل گیا کہ موجودہ فتنوں کے لحاظ سے مسیح کا نازل ہونا ہی ضروری تھا کیونکہ مسیح کی ہی قوم بگڑی تھی اور مسیح کی قوم میں ہی دجالیت پھیلی تھی ۔ اس لئے مسیح کی روحانیت کو ہی جوش آنالائق تھا۔ یہ وہ دقیق معرفت ہے کہ جو کشف کے ذریعہ سے اس عاجز پر کھلی ہے اور یہ بھی کھلا کہ یوں مقدر ہے کہ ایک زمانہ کے گزرنے کے بعد کہ خیر اور صلاح اور غلبہ توحید کا زمانہ ہوگا۔ پھر دنیا میں فساد اور شرک اور ظلم عود کرے گا اور بعض بعض کو کیڑوں کی طرح کھائیں گے اور جاہلیت غلبہ کرے گی اور دوبارہ مسیح کی پرستش شروع ہو جائے گی اور مخلوق کو خدا بنانے کی جہالت بڑے زور سے پھیلے گی اور یہ سب فساد عیسائی مذہب سے اس آخری زمانہ کے آخری حصہ میں دنیا میں پھیلیں گے۔ تب پھر مسیح کی روحانیت سخت جوش میں آکر جلالی طور پر اپنا نزول چاہے گی ۔ تب ایک قہری شبیہ میں اس کا