مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 183
مکتوبات احمد ۱۸۳ جلد دوم وجود سے میرا وجود ملا ہوا ہے۔ پس اس حدیث میں حضرت مسیح کے اس فقرہ کی تصدیق ہے کہ وہ نبی میرے نام پر آئے گا۔ سو ایسا ہی ہوا کہ ہمارا مسیح صلی اللہ علیہ وسلم جب آیا تو اس نے مسیح ناصری کے نا تمام کاموں کو پورا کیا اور اس کی صداقت کے لئے گواہی دی اور ان تہمتوں سے اس کو بری قرار دیا جو یہود اور نصاری نے اس پر لگائی تھیں اور مسیح کی روح کو خوشی پہنچائی ۔ یہ مسیح ناصری کی روحانیت کا پہلا جوش تھا جو ہمارے سید ہمارے مسیح خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے اپنی مراد کو پہنچا۔ فالحمد الله - صفت اسم او ر ا پھر دوسری مرتبہ مسیح کی روحانیت اس وقت جوش میں آئی کہ جب نصاری میں دجالیت کی اور اکمل طور پر آگئی اور جیسا کہ لکھا ہے کہ دجال نبوت کا دعوی بھی کرے گا اور خدائی کا بھی ۔ ایسا ہی انہوں نے کیا ۔ نبوت کا دعوی اس طرح پر کیا کہ کلام الہی میں اپنی طرف سے وہ دخل دئے ، وہ قواعد مرتب کئے اور وہ تنسیخ ترمیم کی جو ایک نبی کا کام تھا۔ جس حکم کو چاہا قائم کر دیا اور اپنی طرف سے عقائد نامے اور عبادت کے طریقے گھڑے اور ایسی آزادی سے مداخلت بیجا کی کہ گویا ان باتوں کے لئے وحی الہی ان پر نازل ہو گئی ۔ سوال ہی کتابوں میں اس قدر بیجا دخل دوسرے رنگ میں نبوت کا دعوی ہے۔ اور خدائی کا دعوی اس طرح پر کہ ان کے فلسفہ دانوں نے یہ ارادہ کیا کہ کسی طرح تمام کام خدائی کے ہمارے قبضہ میں آجائیں جیسا کہ ان کے خیالات اس ارادہ پر شاہد ہیں کہ وہ دن رات ان فکروں میں پڑے ہوئے ہیں کہ کسی طرح ہم ہی مینہ برسائیں اور نطفہ کو کسی آلہ میں ڈال کر اور رحم عورت میں پہنچا کر بچے بھی پیدا کر لیں ۔ اور ان کا عقیدہ ہے کہ خدا کی تقدیر کچھ چیز ہ نہیں بلکہ نا کامی ہماری بوجہ غلطی تدبیر تقدیر ہو جاتی ہے اور جو کچھ دنیا میں خدا کی طرف منسوب کیا جاتا ہے وہ صرف اس وجہ سے ہے کہ پہلے زمانہ کے لوگوں کو ہر یک چیز کے طبعی اسباب معلوم نہیں تھے اور اپنے تھک جانے کی حد انتہا کا نام خدا اور خدا کی تقدیر رکھا تھا۔ اب علل طبعیہ کا سلسلہ جب بکلی لوگوں کو معلوم ہو جائے گا تو یہ خام خیالات خود بخود دور ہو جائیں گے۔ پس دیکھنا چاہئے کہ یورپ اور امریکہ کے فلاسفروں کے یہ اقوال خدائی کا دعوی ہے یا کچھ اور ہے؟ اسی وجہ سے ان فکروں میں پڑے ہوئے ہیں کہ کسی طرح مردے بھی زندہ ہو جائیں ۔ اور امریکہ میں ایک گروہ عیسائی فلاسفروں کا انہی باتوں کا تجربہ کر رہا ہے۔ اور مینہ برسانے کا کارخانہ تو شروع ہو گیا اور ان کا منشاء ہے کہ