مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 179

مسیح موعود کادعویٰ اگر اپنے ساتھ ایسے لوازم رکھتا جن سے شریعت کے احکام اور عقائد پر کچھ مخالفانہ اثر پہنچتا تو بے شک ایک ہولناک بات تھی۔لیکن دیکھنا چاہئے کہ میں نے اس دعویٰ کے ساتھ کس اسلامی حقیقت کو منقلب کر دیا ہے۔کون سے احکام اسلام میں سے ایک ذرہ بھی کم یا زیادہ کردیا ہے ہاں ایک پیشگوئی کے وہ معنی کئے گئے ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے وقت پر مجھ پر کھولے ہیں اورقرآن کریم ان معنوں کی صحت کے لئے گواہ ہے اور احادیثِ صحیحہ بھی ان کی شہادت دیتی ہیں۔پھر نہ معلوم کہ اس قدر کیوں شور وغوغا ہے؟ ہاں طالب حق ایک سوال بھی اس جگہ کر سکتا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود کا دعویٰ تسلیم کرنے کے لئے کون سے قرائن موجود ہیں؟کیونکہ کسی مدعی کی صداقت ماننے کے لئے قرائن تو چاہیے خصوصاً آج کل کے زمانہ میں جو مکر اورفریب اوربد دیانتی سے بھرا ہوا ہے اور دعاوی باطلہ کا بازار گرم ہے۔اس سوال کے جواب میں مجھے یہ کہنا کافی ہے کہ مندرجہ ذیل امور طالب حق کے لئے بطور علامات اور قرائن کے ہیں۔(۱) اوّل وہ پیشگوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تواتر معنوی تک پہنچ گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہر یک صدی کے سر پر وہ ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جودین کو پھر تازہ کر دے گا اور اس کی کمزوریوں کو دور کرکے پھر اپنی اصلی طاقت اور قوت پر اس کو لے آوے گا۔اس پیشگوئی کے رو سے ضرور تھا کہ کوئی شخص اس چودہویں صدی پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتا اور موجودہ خرابیوں کی اصلاح کے لئے پیش قدمی دکھلاتا۔سو یہ عاجز عین وقت پر مامور ہوا۔اس سے پہلے صدہا اولیاء نے اپنے الہام سے گواہی دی تھی کہ چودہویں صدی کا مجدّد مسیح موعود ہو گا۔اوراحادیثِ صحیحہ نبویّہ پکار پکار کرکہتی ہیں کہ تیرہویںصدی کے بعد ظہور مسیح ہے۔پس کیا اس عاجز کا یہ دعویٰ اس وقت عین اپنے محل اور اپنے وقت پر نہیں ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ فرمودہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطا جاوے۔میں نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اگر فرض کیا جاوے کہ چودہویں صدی کے سر پر مسیح موعود پید انہیں ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی پیشگوئیاں خطاجاتی ہیں اور صدہا بزرگوار صاحب الہام جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔(۲) اس بات کو بھی سوچنا چاہیے کہ جب علماء سے یہ سوال کیا جائے کہ چودھویں صدی کا مجدّد