مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 178
ہوئے تب انہوں نے کہا کہ اب قبول کرنے سے مرنا بہتر ہے۔غرض نظر دقیق سے صادق کے صدق کو شناخت کرنا سعیدوں کا کام ہے اورنشان طلب کرنا نہایت منحوس طریق اور اشقیا کا شیوہ ہے۔جس کی وجہ سے کروڑ ہا منکر ہیزم جہنم ہو چکے ہیں۔خدائے تعالیٰ اپنی سنت کو نہیں بدلتا۔وہ جیسا کہ اس نے فرما دیا ہے ان ہی کے ایمان کو ایمان سمجھتا ہے جو زیادہ ضد نہیں کرتے اور قرائن مرجّحہ کودیکھ کر اور علامات صدق پا کر صادق کوقبول کرلیتے ہیں اورصادق کا کلام، صادق کی راستبازی، صادق کی استقامت اورخود صادق کا منہ ان کے نزدیک اس کے صدق پر گواہ ہوتا ہے۔مبارک وہ جن کو مردم شناسی کی عقل دی جاتی ہے۔ماسوا اس کے جو شخص ایک نبی متبوع علیہ السلام کا متبع ہے اور اس کے فرمودہ پر اور کتاب اللہ پر ایمان لاتا ہے۔اس کی آزمائش انبیاء کی آزمائش کی طرح کرنا ایک قسم کی ناسمجھی ہے کیونکہ انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ تا ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کراویں اور بعض احکام کومنسوخ کریں اوربعض نئے احکام لاویں۔لیکن اس جگہ تو ایسے انقلاب کادعویٰ نہیں ہے۔وہی اسلام ہے جو پہلے تھا۔و ہی نمازیں ہیں جوپہلے تھیں۔و ہی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو پہلے تھا اور وہی کتاب کریم ہے جو پہلے تھی۔اصل دین میں سے کوئی ایسی بات چھوڑنی نہیں پڑی جس سے اس قدر حیرانی ہو۔مسیح موعود کادعویٰ اس حالت میں گراں اورقابلِ احتیاط ہوتا کہ جب کہ اس دعوٰی کے ساتھ نعوذباللہ کچھ دین کے احکام کی کمی بیشی ہوتی اور ہماری عملی حالت دوسرے مسلمانوں سے کچھ فرق رکھتی۔اب جبکہ ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں۔صرف مابہ النزاع حیات مسیح اور وفات مسیح ہے اور مسیح موعود کا دعویٰ اس مسئلہ کی درحقیقت ایک فرع ہے اور اس دعویٰ سے مراد کچھ عملی انقلاب نہیں اورنہ اسلامی اعتقادات پر ا س کا کچھمخالفانہ اثر ہے۔تو کیا اس دعویٰ کے تسلیم کرنے کے لئے کسی بڑے معجزہ یا کرامت کی حاجت ہے؟ جس کا مانگنا رسالت کے دعویٰ میں عوام کا قدیم شیوہ ہے۔ایک مسلمان جسے تائید اسلام کے لئے خدا تعالیٰ نے بھیجا۔جس کے مقاصد یہ ہیں کہ تا دین اسلام کی خوبیاں لوگوں پر ظاہر کرے اورآج کل کے فلسفی وغیرہ الزاموں سے اسلام کا پاک ہونا ثابت کر دیوے اور مسلمانوں کو اللہ اور رسول کی محبت کی طرف رجوع دلاوے۔کیا اس کاقبول کرنا ایک منصف مزاج اور خدا ترس آدمی پر کوئی مشکل امر ہے؟