مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 174

مکتوبات احمد ۱۷۴ جلد دوم لائے کہ موجود ہے اور چاند کے موجود ہونے پر بھی ایمان لائے اور اس بات پر ایمان لائے کہ دنیا میں گدھے بھی ہیں اور گھوڑے بھی اور خچر بھی اور بیل بھی اور طرح طرح کے پرند بھی ، تو کیا اس ، ایمان سے کسی ثواب کی توقع ہو سکتی ہے؟ پھر کیا وجہ ہے کہ جب ہم مثلاً ملائک کے وجود پر ایمان لاتے ہیں تو خدائے تعالیٰ کے نزدیک مومن ٹھہرتے ہیں اور مستحق ثواب بنتے ہیں اور جب ہم ان تمام حیوانات پر ایمان لاتے ہیں جو زمین پر ہماری نظر کے سامنے موجود ہیں تو ایک ذرہ بھی ثواب نہیں ملتا حالانکہ ملائک اور دوسری سب چیزیں برابر خدائے تعالیٰ کی مخلوق ہیں ۔ پس اس کی یہی وجہ ہے کہ ملائک پردہ غیب میں ہیں اور دوسری چیزیں یقینی طور پر ہمیں معلوم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن ایمان لانا منظور نہیں ہو گا یعنی اگر اس وقت کوئی شخص خدا تعالیٰ کی تجلیات دیکھ کر اور اس کے ملائک اور بہشت اور دوزخ کا مشاہدہ کر کے یہ کہے کہ اب میں ایمان لایا تو منظور نہ ہو گا۔ کیوں منظور نہ ہوگا ؟ اسی وجہ سے کہ اس وقت کوئی پردہ غیب درمیان نہ ہوگا تا اس سے ماننے والے کا صدق ثابت ہو۔ اب پھر ذرا غور کر کے اس بات کو سمجھ لینا چاہئے کہ ایمان کس بات کو کہتے ہیں اور ایمان لانے پر کیوں ثواب ملتا ہے؟ امید ہے کہ آپ بفضلہ تعالیٰ تھوڑ اسا فکر کر کے اس بات کو جلد سمجھ جائیں گے کہ ایمان لانا اس طرز قبول سے مراد ہے کہ جب بعض گوشے یعنی بعض پہلو کسی حقیقت کے جس پر ایمان لایا جاتا ہے مخفی ہوں اور نظر دقیق سے سوچ کر اور قرائن مرجہ کو دیکھ کر اس حقیقت کو قبل اس کے کہ وہ بکلی کھل جائے ، قبول کر لیا جائے ۔ یہ ایمان ہے جس پر ثواب مترتب ہوتا ہے اور اگر چہ رسولوں اور نبیوں اور اولیاء کرام علیہم السلام سے بلا شبہ نشان ظاہر ہوتے ہیں ۔ مگر سعید آدمی جو خدائے تعالیٰ کے پیارے ہیں ان نشانوں سے پہلے اپنی فراست صحیحہ کے ساتھ قبول کر لیتے ہیں اور جو لوگ نشانوں کے بعد قبول کرتے ہیں وہ لوگ خدائے تعالیٰ کی نظر میں ذلیل اور بے قدر ہیں ۔ بلکہ قرآن کریم بآواز بلند بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ نشان دیکھنے کے بغیر حق کو قبول نہیں کر سکتے وہ نشان کے بعد بھی قبول نہیں کرتے ۔ کیونکہ نشان کے ظاہر ہونے سے پہلے وہ بالجبر منکر ہوتے ہیں اور علانیہ کہتے پھرتے ہیں کہ یہ شخص کذاب اور جھوٹا ہے کیونکہ اس نے کوئی نشان نہیں دکھلایا۔ اور ان کی ضلالت کا زیادہ یہ موجب ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ بھی باعث آزمائش اپنے بندوں کے نشان