مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 175
دکھلانے میں عمداً تاخیر اور توقّف ڈالتا ہے اور وہ لوگ تکذیب اور انکار میں بڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ انکار میں ترقی کرتے کرتے اپنی راؤں۱؎ کو پختہ کر لیتے ہیں اور دعویٰ سے کہنے لگتے ہیں کہ درحقیقت یہ شخص کذّاب ہے، مفتری ہے، مکار ہے، دروغگو ہے، جھوٹا ہے اور منجانب اللہ نہیں ہے۔پس جب وہ شدت سے اپنی رائے کو قائم کر چکتے ہیں اور تقریروں کے ذریعہ سے اور تحریروں کے ذریعہ سے اور مجلسوں میں بیٹھ کر اور منبروں پر چڑھ کر اپنی مستقل رائے دنیا میں پھیلا دیتے ہیں کہ درحقیقت یہ شخص کذاب ہے۔تب اس وقت عنایتِ الٰہی توجہ فرماتی ہے کہ اپنے عاجز بندے کی عزت اورصداقت ظاہر کرنے کے لئے کوئی اپنا نشان ظاہر کرے۔سو اس وقت کوئی غیبی نشان ظاہر ہوتا ہے جس سے صرف وہ لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں جو پہلے مان چکے تھے اور انصار حق میں داخل ہو گئے تھے۔یا وہ جنہوں نے اپنی زبانوں اور اپنی قلموں اور اپنے خیالات کو مخالفانہ اظہار سے بچا لیاتھا۔لیکن وہ بدنصیب گروہ جو مخالفانہ رائوں کو ظاہر کر چکے تھے۔وہ نشان دیکھنے کے بعد بھی اس کو قبول نہیں کرسکتے کیونکہ وہ تو اپنی رائیں علیٰ رئوس الاشہاد شائع کرچکے۔اشتہار دے چکے۔مہریں لگا چکے کہ یہ شخص درحقیقت کذاب ہے اس لئے اب اپنی مشہور کردہ رائے سے مخالف اقرار کرنا ان کے لئے مرنے سے بھی زیادہ سخت ہوجاتا ہے۔کیونکہ اس سے ان کی ناک کٹتی ہے اورہزاروں لوگوں پر ان کی حماقت ثابت ہوتی ہے کہ پہلے تو بڑے زور شور سے دعوٰی کرتے تھے کہ یہ شخص ضرور کاذب ہے، ضرور کاذب ہے، اور قسمیں کھاتے اور اور اپنی عقل اور علمیّت جتلاتے تھے اور اب اسی کی تائید کرتے ہیں۔اورمیں پہلے اس سے بیان کرچکا ہوں کہ ایمان لانے پر ثواب اسی وجہ سے ملتا ہے کہ ایمان لانے والا چند قرائن صدق کے لحاظ سے ایسی باتوں کو قبول کر لیتا ہے کہ وہ ہنوز مخفی ہیں۔جیسا کہ اللہ جلّشانہٗ نے مومنوں کی تعریف قرآن کریم میں فرمائی ہے ۲؎ یعنی ایسی بات کو مان لیتے ہیں کہ وہ ہنوز در پردۂِ غیب ہے۔جیساکہ صحابہ کرام نے ہمارے سیّد و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا اور کسی نے نشان نہ مانگا اور کوئی ثبوت طلب نہ کیا اورگو بعد اس کے اپنے وقت پر بارش کی طرح نشان برسے اور معجزات ظاہر ہوئے۔لیکن صحابہ کرا م ایمان لانے میں معجزات کے محتاج نہیں