مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 171
مکتوبات احمد اا جلد دوم کتاب آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ شائع کروں ۔ سو وہ درخواست انشاء اللہ القدیر پہلے حصہ کے ساتھ ۔ سو ۔ سو وہ انت ہی شائع ہوگی ۔ اول دنوں میں میرا یہ بھی خیال تھا کہ مسلمانوں سے کیونکر مباہلہ کیا جائے کیونکہ مباہلہ کہتے ۔ ہیں ایک دوسرے پر لعنت بھیجنا اور مسلمان پر لعنت بھیجنا جائز نہیں ۔ مگر اب چونکہ وہ لوگ بڑے اصرار پر بھیجنا اور مگر سے مجھ کو کافر ٹھہراتے ہیں اور حکم شرع یہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو کا فرٹھہر اوے اگر وہ شخص در حقیقت کافر نہ ہو تو کفر اُلٹ کر اُسی پر پڑتا ہے جو کا فرٹھہراتا ہے۔ اسی بنا پر مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ جو لوگ تجھ کو کافر ٹھہراتے ہیں اور ابناء اور نساء رکھتے ہیں اور فتویٰ کفر کے پیشوا ہیں ان سے مباہلہ کی درخواست کر ۔ کا فرنہ (۲) نشان کے بارے میں جو آپ نے لکھا ہے ، یہ بھی درست ہے۔ در حقیقت انسان دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ اوّل وہ جو زیرک اور زکی ہیں اور اپنے اندر قوت فیصلہ رکھتے ہیں اور متخاصمین کی قیل و قال میں سے جو تقریر حق کی عظمت اور برکت اور روشنی اپنے اندر رکھتی ہے۔ اس تقریر کو پہچان لیتے ہیں ۔ اور باطل جو تکلف اور بناوٹ کی بد بو رکھتا ہے وہ بھی ان کی نظر سے پوشیدہ نہیں رہتا۔ ایسے لوگ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شناخت کے لئے اس بات کے محتاج نہیں ہو سکتے کہ ان کے سامنے سوئی کا سانپ بنایا جاوےا وے اور نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شناخت کے لئے حاجت مند ہو سکتے ہیں کہ ان کے ہاتھ سے مفلوجوں اور مجذوبوں کو اچھے ہوتے دیکھ لیں اور نہ ہمارے سید و مولی حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ایسے اعلیٰ درجہ کے لوگوں نے کبھی معجزہ طلب کیا لے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ صحابہ کبار رضی اللہ عنہم کوئی معجزہ دیکھ کر ایمان لائے تھے بلکہ وہ زکی تھے اور نور قلب رکھتے تھے ۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ دیکھ کر ہی پہچان لیا تھا کہ یہ جھوٹوں کا منہ نہیں ہے۔ اس لئے خدائے تعالیٰ کے نزدیک صدیق اور راستباز ٹھہرے۔ انہوں نے حق کو دیکھا اور ان کے دل بول اٹھے کہ یہ منجانب اللہ ہے۔ دوسری قسم کے وہ انسان ہیں جو معجزہ اور کرامت طلب کرتے ہیں ۔ ان کے حالات خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں تعریف کے ساتھ بیان نہیں کئے اور اپنا غضب ظاہر کیا ہے جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے وَ أَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ جَاءَتْهُمْ آيَةً لِّيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا الْآيَتُ عِنْدَ اللَّهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ کے یعنی یہ لوگ عرفانی صاحب کے مجموعہ مکتوبات میں سہو کتابت سے ”نہیں“ لکھا لکھا گیا ہے ۔ کے الانعام: ۱۱۰ ا عرفا