مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 171

کتاب آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ شائع کروں۔سو وہ درخواست انشاء اللہ القدیر پہلے کے ساتھ ہی شائع ہوگی۔اوّل دنوں میں میرا یہ بھی خیال تھا کہ مسلمانوں سے کیونکر مباہلہ کیا جائے کیونکہ مباہلہ کہتے ہیں ایک دوسرے پر لعنت بھیجنا اور مسلمان پر لعنت بھیجنا جائز نہیں۔مگر اب چونکہ وہ لوگ بڑے اصرار سے مجھ کو کافر ٹھہراتے ہیں اورحکم شرع یہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو کافر ٹھہراوے اگر وہ شخص درحقیقت کافر نہ ہو توکفر اُلٹ کر اُسی پر پڑتا ہے جو کافر ٹھہراتا ہے۔اسی بنا پر مجھے یہ حکم ہو ا ہے کہ جو لوگ تجھ کو کافر ٹھہراتے ہیں اور ابناء اور نساء رکھتے ہیں اور فتویٰ کفر کے پیشوا ہیں ان سے مباہلہ کی درخواست کر۔(۲) نشان کے بارے میں جو آپ نے لکھا ہے، یہ بھی درست ہے۔درحقیقت انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔اوّل وہ جو زیرک اور زکی ہیں اوراپنے اندر قوتِ فیصلہ رکھتے ہیں اور متخاصمین کی قیل وقال میں سے جو تقریر حق کی عظمت اور برکت اور روشنی اپنے اندر رکھتی ہے۔اس تقریر کو پہچان لیتے ہیں۔اور باطل جو تکلف اور بناوٹ کی بدبو رکھتا ہے وہ بھی ان کی نظر سے پوشیدہ نہیں رہتا۔ایسے لوگ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شناخت کے لئے اس بات کے محتاج نہیں ہو سکتے کہ ان کے سامنے سوٹی کا سانپ بنایا جاوے اور نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شناخت کے لئے حاجت مند ہو سکتے ہیں کہ ان کے ہاتھ سے مفلوجوں اور مجذوبوں کو اچھے ہوتے دیکھ لیں اورنہ ہمارے سیدو مولیٰ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ایسے اعلیٰ درجہ کے لوگوں نے کبھی معجزہ طلب کیا۔۱؎ کوئی ثابت نہیںکرسکتا کہ صحابہ کبار رضی اللہ عنہم کوئی معجزہ دیکھ کر ایمان لائے تھے بلکہ وہ زکی تھے اور نورِ قلب رکھتے تھے۔انہوںنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ دیکھ کر ہی پہچان لیاتھا کہ یہ جھوٹوں کامنہ نہیں ہے۔اس لئے خدائے تعالیٰ کے نزدیک صدیق اور راستباز ٹھہرے۔انہوں نے حق کو دیکھا اور ان کے دل بول اٹھے کہ یہ منجانب اللہ ہے۔دوسری قسم کے وہ انسان ہیں جو معجزہ اور کرامت طلب کرتے ہیں۔ان کے حالات خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں تعریف کے ساتھ بیان نہیں کئے اور اپنا غضب ظاہر کیا ہے جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے  ۲؎ یعنی یہ لوگ