مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 172
سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی نشان دیکھیں تو ضرور ایمان لے آئیں گے۔ان کو کہہ دے کہ نشان تو خدا تعالیٰ کے پاس ہیں اور تمہیں خبر نہیں کہ جب نشان بھی دیکھیںگے تو کبھی ایمان نہیں لائیںگے۔پھر فرماتا ہے ۱؎ یعنی جب بعض نشان ظاہر ہوں گے تو اس دن ایمان لانا بے سُود ہو گا اور جو شخص صرف نشان کے دیکھنے کے بعد ایمان لایا ہے اس کو وہ ایمان نفع نہیں دے گا۔پھر فرماتا ہے ۲؎ …الخ یعنی کافر کہتے ہیں کہ وہ نشان کب ظاہر ہوں گے اوریہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ سو ان کو کہہ دے کہ مجھے ان باتوں میں دخل نہیں۔نہ میں اپنے نفس کے لئے ضرر کا مالک ہوں نہ نفع کا۔مگر جو خدا چاہے۔ہر یک گروہ کے لئے ایک وقت مقرر ہے جوٹل نہیں سکتا اور پھر اپنے رسول کو فرماتا ہے۔۔۳؎ یعنی اگر تیرے پر (اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم) ان کافروں کا اعراض بہت بھاری ہے۔سو اگر تجھے طاقت ہے تو زمین میں سرنگ کھود کر یا آسمان پر زینہ لگا کر چلاجا اور ان کے لئے کوئی نشان لے آ۔اور اگر خدا چاہتا تو ان سب کو جونشان مانگتے ہیں ہدایت دے دیتا۔پس ُتو جاہلوں میں سے مت ہو۔اب ان تمام آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کافر نشان مانگا کرتے تھے۔بلکہ قسمیں بھی کھاتے تھے کہ ہم ایمان لائیں گے مگر اللہ جلّشانہ‘ کی نظر میں وہ موردِ غضب تھے اور ان کے سوا لات بیہودہ تھے۔بلکہ اللہ جلّشانہٗ صاف صاف فرماتا ہے کہ جو شخص نشان دیکھنے کے بعد ایمان لاوے اس کا ایمان مقبول نہیں۔جیسا کہ ابھی آیت ۴؎ تحریر ہوچکی ہے اور اسی کے قریب قریب ایک دوسری آیت ہے اور وہ یہ ہے۔۵؎ یعنی پہلی اُمتوں میں جب ان کے نبیوں نے نشان دکھلائے تو ان نشانوں کو