مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 169

مکتوبات احمد ۱۶۹ جلد دوم مکتوب نمبرے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کل عنایت نامہ پہنچ کر اس کے پڑھنے سے جس قدر دل کو صدمہ پہنچا اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن پھر خدا تعالیٰ کی یہ آیت یاد آئی کہ لَا تَايْتَسُوا مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَايْنَسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ لا یعنی خدا کی رحمت سے نو میدمت ہو کہ نومید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہیں ۔ میں جانتا ہوں کہ یہ دن تمام دنیا کے لئے ابتلا کے ہیں ۔ آسمان پر بارش کا نشان نہیں اس لئے زمینداروں کی حالت زوال کے قریب ہو رہی ہے اور ایک ایسے رئیس جن کی تمام جمعیت زمینداری آمدنی پر موقوف ہے وہ بھی سخت خطرہ میں ہیں لیکن پھر بھی یہ فقرہ بہت مضبوط ہے ۔ خدا داری چه چه غم داری ہمت مردانہ رکھنا چاہئے ۔ بڑے بڑے بادشاہ ہیں جو اسلامی بادشاہ ہوئے ہیں ، کبھی سخت سرگردانی میں پڑے اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے دوسری حالت پہلی حالت سے اچھی ہو گئی۔ میں آپ کے لئے انشاء اللہ القدیر اس قدر دُعا کرنا چاہتا ہوں جب تک صریح اور صاف لفظوں میں خوشخبری پاؤں ۔ آپ تسلی رکھیں اور میرے نزدیک آپ کو قادیان میں آنے سے کوئی بھی روک نہیں ۔ ہرگز مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ آپ کمشنر صاحب کو پوچھیں اور اُن سے اجازت چاہیں ۔ اس میں خود شک پیدا ہوتا ہے۔ بعض حکام شکی مزاج ہوتے ہیں پوچھنے سے خواہ مخواہ شک میں پڑتے ہیں۔ جہاں تک مجھے علم ہے حکام کو ہماری ہے کوئی خطرناک بدظنی نہیں ہے ۔ ہماری جماعت کے ملازمین کو برابر ترقیاں مل رہی ہیں۔ ان کی کارروائیوں پر حکام خوشی ظاہر کرتے ہیں۔ سو یہ ایک وہم ہوگا اگر ایسا خیال کیا جائے کہ حکام بدظن ہیں ۔ اس لئے بلا تامل تشریف لے آویں میرے نزدیک کچھ مضائقہ نہیں ۔ ہم سچے دل سے گورنمنٹ کے خیر خواہ ہیں ۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام ا يوسف : ۸۸ خاکسار ۔ مرزا غلام احمد عفی عنہ ۱۲ فروری ۱۸۹۲ء ہے اس جگہ ورق مکتوب اُڑا ہوا ہے کچھ حصہ جو نظر آتا ہے اس سے یہاں لفظ ” طرف “ یا ”ظرف سے معلوم ہوتا ہے ۔