مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 167

مکتوب نمبر۶ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی نواب صاحب سردار محمد علی خان سلّمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مبلغ دو سَو اکیاسی روپیہ آں محب کل کی ڈاک میں مجھ کو مل گئے۔جزاکم اللہ خیراً۔جس وقت آپ کا روپیہ پہنچا ہے مجھ کو اتفاقاً نہایت ضرورت درپیش تھی۔موقعہ پر آنے کی وجہ سے میں جانتا ہوں کہ خداوند کریم و قادر اس خدمت للّٰہی کا آپ کو بہت اجردے گا۔۔۱؎ آج مجھ کو صبح کی نماز کے وقت بہت تضرع اور ابتہال سے آپ کے لئے دعا کرنے کا وقت ملا۔یقین کہ خدا تعالیٰ اس کو قبول کرے گا اور جس طرح چاہے گا اس کی برکات ظاہر کرے گا۔میں آپ کوخبر دے چکا ہوں کہ میں نے پہلے بھی بشارت کے طور پر ایک امر دیکھا ہوا ہے۔گو میں ابھی اس کو کسی خاص مطلب یا کسی خاص وقت سے منسوب نہیں کرسکتا۔تاہم بفضلہ تعالیٰ جانتا ہوں کہ وہ آپ کے لئے کسی بہتری کی بشارت ہے اور کوئی اعلیٰ درجہ کی بہتری ہے۔جو اپنے مقررہ وقت پر ظاہر ہوگی۔واللّٰہ اعلم بالصواب۔خداوند ذوالجلال کی جناب میں کوئی کمی نہیں۔اُس کی ذات میں بڑی بڑی عجائب قدرتیں ہیں اور وہی لوگ ان قدرتوں کو دیکھتے ہیں کہ جووفاداری کے ساتھ اس کے تابع ہو جاتے ہیں۔جو شخص عہد وفا کو نہیںتوڑتا اور صدق قدم سے نہیں ہارتا اورحسن ظن کو نہیں چھوڑتا، اس کی مراد پوری کرنے کے لئے اگر خدا تعالیٰ بڑے بڑے محالات کوممکنات کر دیوے تو کچھ تعجب کی بات نہیں کیونکہ ایسے بندوں کا اس کی نظر میں بڑا ہی قدر ہے، کہ جو کسی طرح اس کے دروازہ کو چھوڑنا نہیں چاہتے اور شتاب باز اور بے وفانہیں ہیں۔یہ عاجز انشاء اللہ العزیز ۲۰؍ جنوری ۱۸۹۲ء کو لاہور جائے گا اورارادہ ہے کہ تین چار ہفتہ تک