مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 160
اقرار تھا نہ انکار۔پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آیا اور ان پر غالب نہ ہو سکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے بڑے دعوے کئے ہیں۔یہ سب جھوٹے نہیں ہوسکتے۔تب میں نے بطور آزمائش آپ کی طرف خط وکتابت شروع کی جس سے مجھ کو تسکین ہوتی رہی اور جب قریباً اگست میں آپ سے لودہانہ ملنے گیا تواس وقت میری تسکین خوب ہو گئی اور آپ کو باخدابزرگ پایا اور بقیہ شکوک کو پھر بعد کی خط وکتابت میں میرے دل سے بکلّی دھویا گیا اور جب مجھے یہ اطمینان دی گئی کہ ایک ایسا شیعہ جو خلفائے ثلاثہ کی کسر شان نہ کرے، سلسلہ بیعت میں داخل ہو سکتا ہے۔تب میں نے آپ سے بیعت کر لی۔اب میں اپنے آپ کو نسبتاً بہت اچھا پاتا ہوں اور آپ گواہ رہیں کہ میں نے تمام گناہوں سے آئندہ کے لئے توبہ کی ہے۔مجھ کو آپ کے اخلاق اور طرزِ معاشرت سے کافی اطمینان ہے کہ آپ سچے مجدّد اوردنیا کے لئے رحمت ہیں‘‘۔جیساکہ پہلے خط سے ظاہر ہے حضرت اقدس اگست ۱۸۹۰ء میں لودھیانہ ہی تھے۔اس لئے کہ وہ خط لودھیانہ سے ہی حضرت نے لکھا ہے۔پس ۱۸۹۰ء کی آخری سہ ماہی میں غالباً نواب صاحب کے شکوک وغیرہ صاف ہو گئے اور آپ نے سلسلہ بیعت میں شمولیت اختیار کی۔اگر میں صحیح تاریخ بیعت بھی معلوم کر سکا تو وہ کسی دوسری جگہ درج کردی جائے گی۔وباللہ التوفیق۔عرفانی۔