مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 161

مکتوب نمبر۴ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مشفقی عزیزی محبی نواب صاحب سردار محمد علی خان صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کاعنایت نامہ آج کی ڈاک میں مجھ کو ملا۔الحمد للّٰہ والمنۃ کہ خدائے تعالیٰ نے آپ کو صحت بخشی۔اللہ جلّشانہ آپ کو خوش رکھے اور عمر اور راحت اورمقاصد دلی میںبرکت اور کامیابی بخشے۔اگرچہ حسبِ تحریر مرزا خدابخش صاحب آپ کے مقاصد میں سخت پیچیدگی ہے مگر ایک دعا کے وقت کشفی طور پر مجھے معلوم ہو اکہ آپ میرے پاس موجود ہیں اورایک دفعہ گردن اونچی ہو گئی ا ورجیسے اقبال اورعزت کے بڑھنے سے انسان اپنی گردن کو خوشی کے ساتھ اُبھارتا ہے۔ویسی ہی صورت پیدا ہوئی۔میں حیران ہوں کہ یہ بشارت کس وقت اور کس قسم کے عروج سے متعلق ہے۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ظہور کا زمانہ کیا ہے۔مگر میں کہہ سکتا ہوں کہ کسی وقت میں کسی قسم کا اقبال اور کامیابی اور ترقی عزت اللہ جلّشانہٗ کی طرف سے آپ کے لئے مقررہے۔اگر اس کا زمانہ نزدیک ہو یا دور ہو سو میں آپ کے پیش آمدہ ملال سے گو پہلے غمگین تھا مگر آج خوش ہوں۔کیونکہ آپ کے مآل کار کی بہتری کشفی طور پر معلوم ہوگئی۔واللّٰہ اعلم بالصواب۔میں پہلے خط میں لکھ چکا ہوں کہ ایک آسمانی فیصلہ کے لئے میں مامور ہوں اور اس کے ظاہری انتظام کے درست کرنے کے لئے میں نے ۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۱ء کو ایک جلسہ تجویز کیا ہے۔متفرق مقامات سے اکثر مخلص جمع ہوں گے۔مگر میں افسوس کرتا ہوں کہ آں محب بوجہ ضعف و نقاہت ایسے متبرک جلسہ میں شریک نہیں ہو سکتے۔اس حالت میں مناسب ہے کہ آں محب اگر حرج کار نہ ہو تو مرزا خدا بخش صاحب کو روانہ کر دیں۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام ۲۲؍ دسمبر ۱۸۹۱ء خاکسار غلام احمد ازقادیان