مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 158

مکتوب نمبر ۳ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ بخدمت اخویم عزیزی خان صاحب محمد علی خاں۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔عنایت نامہ متضمن بہ دخول درسلسلہ بیعت این عاجز موصول ہوا۔دعا ثبات و استقامت درحق آں عزیز کی گئی۔ثبتکم علی التقوٰی والا یمان وفتح لکم ابواب الخلوص والمحبّۃ والعرفان امین ثم امین۔اشتہار شرائط بیعت بھیجا جاتا ہے۔جہاں تک وسعت و طاقت ہو اس پر پابند ہوں اور کمزوری کے دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے مدد چاہتے رہیں۔اپنے ربّ کریم سے مناجاتِ خلوت کی مداومت رکھیں اور ہمیشہ طلب قوت کرتے رہیں۔جس دن کا آنا نہایت ضروری اور جس گھڑی کا وارد ہوجانا نہایت یقینی ہے اس کو فراموش مت کرو اور ہروقت ایسے رہو کہ گویا تیار ہو۔کیونکہ نہیں معلوم کہ وہ دن اور وہ گھڑی کس وقت آجائے گی۔سو اپنے وقتوں کی محافظت کرو اور اس سے ڈرتے رہو۔جس کے تصرّف میں سب کچھ ہے۔جو شخص قبل از بلا ڈرتا ہے۔اس کو امن دیا جائے گا۔مگر جو شخص بَلا سے پہلے دنیا کی خوشیوں میں مست ہورہا ہے، وہ ہمیشہ کے لئے دکھوںمیں ڈالا جائے گا۔جو شخص اس قادر سے ڈرتا ہے۔وہ اس کے حکموں کی عزت کرتاہے۔پس اس کو عزت دی جائے گی۔مگر جو شخص نہیں ڈرتا اس کو ذلیل کیا جائے گا۔دنیا بہت ہی تھوڑا وقت ہے۔بے وقوف ہے وہ شخص جو اس سے دل لگا وے، اور نادان ہے وہ آدمی جو اس کے لئے اپنے رب کریم کو ناراض کرے۔سو ہو شیار ہو جائو تا غیب سے قوت پائو۔دعا بہت کرتے رہو اورعاجزی کو اپنی خصلت بنائو۔جو صرف رسم اور عادت کے طور پر زبان سے دعا کی جاتی ہے یہ کچھ بھی چیز نہیں۔اس میں ہرگز زندگی کی روح نہیں جب دعا کرو تو بجز صلوٰۃ فریضہ کے یہ دستور رکھو کہ اپنی خلوت میں جائو اوراپنی ہی زبان میں نہایت عاجزی کے ساتھ جیسے ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بندہ ہوتا ہے،