مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 157

غایت درجہ اصحاب کبار بادشاہوں کی طرح ہیں اور اس عاجز کا عقیدہ ہے کہ اصحاب کبار کے درجہ کے مقابل بارہ امام کچھ بھی چیز نہیں بلکہ اصحاب کبار کی محبت ان کا فخر اور ان کے ترقی ایمان کا موجب ہے قرآن شریف میں بجز ابوبکر صدیق ؓ خاص طور پر کسی اہلِ بیت کا ذکر نہیں اور یہ بھی میرا عقیدہ ہے کہ صحابہ کے بعد جس قدر اہل بیت میں امام ہوئے ہیں وہ اپنے کمالات میں بے مثل نہیں بلکہ ایسے لوگ ہمیشہ ہوتے ہیں یہ میرے لئے شکر کا مقام ہے اور اس بات کا کہنا اپنے محل پر ہے کہ ان اماموں کے درجہ کے موافق ایک میں بھی ہوں اور اس سے زیادہ بھی مجھ پر انعاماتِ الٰہی ہیں جس کو آپ سمجھ نہیں سکتے اور نہ اس زمانہ کی خلقت سمجھ سکتی ہے۔اب اگر میں اس دعوٰے میں راستی پر نہیں ہوں تو میری طرف سے عام منادی ہے کہ شیعوں کے بزرگ لوگ میرے اشتہار کے موافق مباہلہ اور مقابلہ کے لئے آویں۔بیشک اگر وہ آویں تو اللہ جلّشانہٗ ان کی پردہ دری کرے گا اور اپنے بندہ کی تائید میں وہ انوار دکھلائے گا جو ہمیشہ اپنے خادم بندوں کے لئے دکھلاتا رہا ہے اس طریق سے آپ کرامات کو مشاہدہ کر سکتے ہیں اور آپ مقدرت رکھتے ہیں کہ کسی شیعہ کے مجتہد کو دو چار ہزار روپیہ دے کر میرے دروازہ پر بٹھا دیں اورمقابلہ کراویں۔تاسیہ روی شو دہر کہ درو غش باشد (۷) موافق شرائط مطبوعہ کے تحریری بیعت بھی ہو سکتی ہے اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے وقتِ صفا میسر آیا تو انشاء اللہ آپ سب صاحبان کے لئے دعا کروں گا۔(والسلام علی من اتبع الہدیٰ) ٭ خاکسار مرزا غلام احمد