مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 153
کرناپڑے گا کہ وہ لوگ اعلیٰ درجہ کے مقدس ہیں۔ہر ایک شخص کی فضیلت باعتبار اس کے حسنِ خدمات اور ذاتی لیاقتوں کے ہوا کرتی ہے۔سو جیسے صحابہ کرام کی فضیلت اس قاعدہ مستمرہ کی رو سے بپایۂ ثبوت پہنچ گئی ہے کسی اور دوسرے کی فضیلت ہر گز ثابت نہیں ہو سکتی۔مثلاً امام حسین رضی اللہ عنہ نے جو بھاری نیکی کا کام دنیا میں آکر کیا وہ صرف اس قدر ہے کہ ایک نابکار دنیا دار کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت نہ کی اور اسی کشاکش کی وجہ سے شہید ہو گئے۔مگر یہ ایک شخصی ابتلا ہے جو انہیں پیش آگیااگر اس کو حضرت صدیق اکبر کی ان جانفشانیوں کے ساتھ جانچا جاوے جو انہوں نے تمام عمر محض اعلائِ کلمۂِ اسلام کے لئے اکمل اور اتم طور پر پوری کی تھیں، تو کیا ایک شخصی ابتلا کو اس سے کچھ نسبت ہو سکتی ہے؟ اللہ جلّشانہٗ کا کسی سے رشتہ نہیں ہے۔جو شخص اعلیٰ درجہ کا وفادار ہے اور خدمت گزار ہے وہی اس کا مقرب ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بیٹا زندہ نہیں رہا۔البتہ نواسے زندہ رہے ہیں۔جیسی حضرت فاطمہ کی اولاد یا دوسری بیبیوںکی اولاد۔سو خدا تعالیٰ کے نزدیک ان کے مدارج ان کے اعمال کے موافق ہیں۔خواہ نخواہ کا درجہ کسی کو دیا نہیں جاتا۔جو شخص محض خدا تعالیٰ کے لئے کسی سے محبت کرتا ہے اس کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے دیکھے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اس نے کیا کیا عمدہ کام کیا ہے ناحق فضیلت اس کو نہ دیوے کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ محض رشتہ سے کیوں کر فضیلت پید اہو جاتی ہے خاص کر کے ذرا سے رشتہ سے جو نواسہ ہوتا ہے۔کنعان حضرت نوحؑ کا بیٹا تھا اور آذر حضرت ابراہیم ؑ کا باپ۔پس کیا یہ رشتہ انہیں کچھ کا م آیا؟ پس یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اہلِ بیت ہونا اپنے نفس میں کچھ بھی چیز نہیں ہے۔بے شک امام حسن و حسین ان لوگوں میں سے ہیں۔جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے ان کی راستبازی کی وجہ سے کامل کیا ہے نہ اس کی وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے ہیں کیوں کہ نواسے تو اوربھی تھے نواسہ ہونا خدا تعالیٰ کے نزدیک یا خلقت کے نزدیک کیا حقیقت رکھتا ہے؟ لیکن بلاشبہ کمالات صدیقی وفا روقی کے مقابل پر حسینی کمالات متنزّلہیں ان بزرگواروں نے اسلام پر بڑا احسان کیا اور اسلام کی شوکت کو دنیا میں قائم کیا اور وہ جانفشانی کے کام کئے جو نبی اور رسول کرتے ہیں۔جو شخص ان کے احسانات کا منکر ہووے وہ خدا تعالیٰ کا کافرِ نعمت ہے۔اگر ہم ذبح بھی کئے جاویں تو ہرگز راستی کو چھوڑ نہیں سکتے۔عوام کا قاعدہ ہے کہ وہ کورانہ تقلید پر چلتے ہیں یہ سراسر غلط ہے۔تمام صحابہ کرام کے مناقب سے کتابیں بھری پڑی ہیں اور قرآن کریم شاہد