مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 148

کیسا لغو اور حقانیت سے دُور ہے اگر خدائے کریم و رحیم کو بھی منظو ر تھا کہ ولایت اور امامت بارہ شخصوں پر محدود ہو کر آئندہ قرب الٰہی کے دروازوں پر مہر لگ جائے تو پھر اس سے تمام تعلیم اسلام عبث ٹھہرتی ہے اور اسلام ایک ایسا گھر ویران اور سنسان ماننا پڑتا ہے جس میں کسی نوع کی برکت کا نام و نشان نہیں۔اور اگر یہی سچ ہے کہ خد اتعالیٰ تمام برکتوں اور امامتوں اور ولایتوں پر مہر لگا چکا ہے اور آئندہ بکلّی وہ راہیں بند ہیں تو خدائے تعالیٰ کے سچے طالبوں کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی دل توڑنے والا واقعہ نہ ہو گا۔گویا وہ جیتے ہی مر گئے اور ان کے ہاتھ میں بجز چند خشک قصوں کے اور کوئی مغز اور بات نہیں۔اور اگر شیعہ لوگ اس عقیدہ کو سچ مانتے ہیں تو پھر کیوں پنج وقت نماز میںیہ دعا پڑھتے ہیں۔ ۱؎ کیونکہ اس دعا کے تو یہی معنی ہیںکہ اے خدائے قادر! ہم کو وہ راہ اپنے قرب کا عنایت کر جو ُتونے نبیوں اور اماموں اور صدیقوں اور شہیدوں کو عنایت کیا تھا۔پس یہ آیت صاف بتلاتی ہے کہ کمالات امامت کا راہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔اس عاجز نے اسی راہ کے اظہار ثبوت کے لئے بیس ہزار اشتہار مختلف دیار و امصار میں بھیجا ہے۔اگر یہ برکت نہیں تو پھر اسلام میں فضیلت ہی کیا ہے یہ تو سچ ہے کہ اکثر امام کامل اور بزرگ اور سیّد القوم تھے۔مگر یہ ہرگز سچ نہیں کہ کمالات میں ان کے برابر ہونا ممکن نہیں۔خدائے تعالیٰ کے دونوں ہاتھ رحمت اور قدرت کے ہمیشہ کھلے ہیں اور کھلے رہیں گے اور جس دن اسلام میں یہ برکتیں نہیں ہوں گی۔اس دن قیامت آجائے گی۔خدا تعالیٰ ہر ایک کو راہ راست کی ہدایت بخشے۔پرانا عقیدہ ایسا مؤ ثر ہوتا ہے کہ بجائے دلیل ماناجاتا ہے اور اس سے کوئی انسان بجز فضل خداوندتعالیٰ نجات نہیں پاسکتا۔ایک آدمی آپ لوگوں میں اس مدّعا کے ثابت کرنے کے لیے موجود ہے۔کیا آپ لوگوں میں سے کسی کو خیال آتا ہے کہ اس کی آزمائش کرے۔