مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 135

مکتوب نمبر۹۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم حضرت مولوی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کل کی ڈاک میں آنمکرم کا محبت نامہ پہنچ کر بوجہ بشریت اس کے پڑھنے سے ایک حیرت دل پر طاری ہوئی۔مگر ساتھ ہی دل پھر کھل گیا۔یہ خداوند حکیم و کریم کی طرف سے ایک ابتلا ہے۔انشاء اللہ القدیر کوئی خوف کی جگہ نہیں۔اللہ جلّشانہٗ کی پیار کی قسموں میں سے یہ بھی ایک قسم پیار کی ہے کہ اپنے بندے پر کوئی ابتلا نازل کرے۔مجھے تین چار روز ہوئے کہ ایک متوحش خواب آئی تھی جس کی یہ تعبیر تھی کہ ہمارے ایک دوست پر دشمن نے حملہ کیا ہے اور کچھ ضرر پہنچاتا ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کا بھی کام تمام ہو گیا۔میں نے رات کو جس قدر آنمکرم کے لئے دعا کی اور جس حالتِ پُرسوز میں دعا کی۔اس کو خداوند کریم خوب جانتا ہے اور ابھی اس پر بفضلہ تعالیٰ بس نہیں کرتا اور چاہتا ہوں …… کہ خداوندکریم سے کوئی بات دل کو خوش کرنے والی سنوں۔اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو چند روز تک اطلاع دوں گا اور انشاء اللہ القدیر، آپ کے لئے دعا کروں گا جو کبھی کبھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک یگانہ رفیق کے لئے کی جاتی ہے۔ہمیں جو ہمارے بادشاہ، ہمارا حاکم، ذوی الاقتدار، زندہ حی و قیوم موجود ہے جس کے آستانہ پر ہم گرے ہوئے ہیں جس قدر اس کی مہربانیوں، اس کے فضلوں، اس کی عجیب قدرتوں، اس کی عنایات خاصہ پر بھروسہ ہے اس کا بیان کرنا غیر ممکن ہے۔دعا کی حالت میں یہ الفاظ منجانب اللہ زبان پر جاری ہوئے۔لَوٰی عَلَیْہِ (اَوْ) لَاوَلِیَّ عَلَیْہِ ۱؎ اور یہ خدا تعالیٰ کا کلام تھا اور اسی کی طرف سے تھا۔آج رات خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ لڑکے کہتے ہیں کہ عید کل تو نہیں پر پرسوں ہوگی۔معلوم نہیں کل اور پرسوں کی کیا تعبیر ہے۔۲؎ مجھے معلوم نہیں کہ ایسا پُر اشتعال حکم کس اشتعال کی وجہ سے دیا گیا ہے۔کیا بدقسمت وہ ریاست ہے جس سے ایسے مبارک قدم، نیک بخت اور سچے خیرخواہ نکالے جائیں اور معلوم نہیں کہ کیاہونے والا ہے۔