مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 125
مکتوبات احمد ۱۲۵ جلد دوم مکتوب نمبر ۸۷ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدوم می اخویم - السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ عنایت نامہ پہنچ کر علالت طبع آنمکرم سے بہت متردد ہوا ۔ رات کو آپ کی صحت کیلئے بہت دعا کی گئی ۔ امید کہ خدا وند کریم اپنے فضل و کرم سے صحت بخشے ۔ اخویم مولوی عبدالکریم کی تحریر آپ کی بیماری میں زیادہ دل کو صدمہ پہنچاتی ہے ۔ اگر کل آئمکرم کا دستخطی خط نہ آیا ہوتا تو معلوم نہیں مولوی عبدالکریم صاحب کی تحریر سے کس قدر قلق و اضطراب دل پر ہوتا ۔ خدا تعالیٰ بہت جلد آپ کو شفا بخشے ۔ تمام غم راحت سے مبدل ہو جائیں گے۔ اللہ جل شانہ جانبین میں خیر و عافیت رکھے اور آپ کی عمر میں صحت اور عافیت اور دین و دنیا کی سعادت کے ساتھ برکت سے بھری ہوئی درازی بخشے ۔ آمین ثم آمین کے میاں عبدالحق اور مولوی عبد الرحمن صاحب کی تحریروں کا آپ ذرا فکر نہ کریں۔ یہ ایک ابتلاء ہے خدا تعالیٰ آپ اُس کو اُٹھا دے گا۔ غور کا مقام ہے کہ جس وقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبوت حقہ کی تبلیغ کر رہے تھے اور کلام ربانی نازل ہو رہا تھا اس وقت مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے کیا کیا فتنے بر پا کر دیئے تھے۔ ایک طرف قرآن کریم کی یہ سورتیں نازل ہوئیں ۔ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحُبِ الْفِيلِ ہے اور اس کے مقابلہ پر مسیلمہ نے اپنی وحی یہ سنائی - أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِالْحُبْلَى اَخْرَجَ مِنْهَا ۔ ظاہر ہے کہ ایسے کذاب کے کھڑے ہونے سے کیا کیا فتنے ہوئے ہوں گے اور جس وقت سادہ لوح لوگ ایک طرف وحی قرآنی سنتے ہوں گے اور ایک طرف مسیلمہ کی شیطانی تکیں ان کے کانوں تک پہنچتی ہوں گی تو کیا کیا ابتلاء انہیں پیش آتے ہوں گے ۔ ایسا ہی ابن صیاد نے بہت فتنہ ڈالا تھا اور یہ تمام لوگ ہزار ہا لوگوں کی ہلاکت کا موجب ہوئے تھے لیکن آخر خدا تعالیٰ نے حق کی روشنی ظاہر کر دی اور مومنین پر سکینت اور اطمینان نازل کی ۔ ( یہ دعا قبول ہوگئی ۔ عرفانی) ۲ الفيل: ۲