مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 106

مکتوب نمبر۷۰ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ محبی مخدومی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج مولوی محمد حسین صاحب نے صاف طور پر مخالفانہ خط بھیج دیاہے جو آپ کی خدمت میں روانہ کرتاہوں۔الحمدللّٰہ والمنّۃ کہ ہر ایک قسم کے علماء و امراء عقلاء میں سے خدا تعالیٰ نے آپ کو چن لیا۔وَذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ۔اس عاجز نے آپ کا مضمون غور سے پڑھا۔بہت عمدہ ہے۔انشاء اللہ القدیر وہ تمام مضمون میں اسی رسالہ میں چھاپ دوں گا۔خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ہماری مدد کرے گا۔ایک عجیب بات یہ ہے کہ کل پرانے کاغذات میں سے اتفاقاً ایک پرچہ نکلا ہے جس کے سر پر ۵؍ جنوری ۱۸۸۸ء لکھا ہوا تھا۔اس میں یادداشت کے طور پر ایک خواب اس عاجز نے لکھی ہوئی ہے جس کا یہ مضمون تھا کہ مولوی محمد حسین نے ایک مخالفانہ مضمون چھپوایا ہے اور اس عاجز کی نسبت اس کی سرخی یہ رکھی ہے کہ ’’کمینہ‘‘ معلوم نہیں اس سے کیا مراد ہے۔میں نے وہ مضمون دیکھ کر انہیں کہا کہ میں نے آپ کو منع کیا تھا۔آپ نے اس مضمون کو کیوں چھپوایا۔میرے نزدیک وہ نالائق جوش دکھلائیں گے۔انہیں بہت کچھ اپنی علمیت پر ناز ہے مگر میں آپ کے لئے دعا کروں گا اور آپ کو اس کے ردّ کیلئے تکلیف دوں گا۔خدا تعالیٰ بلاشبہ آپ کی مدد کرے گا۔باقی سب خیریت ہے۔خاکسار ۱۹؍ فروری ۱۸۹۱ء غلام احمد عفی عنہ نوٹ: یہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دعویٰ مسیحیت کے آغاز میں لکھا ہے۔مولوی محمد حسین بٹالوی نے مخالفت کا کھلا کھلا الٹی میٹم دیا اور آپ نے اس کی اطلاع حضرت حکیم الامت کو دی اور ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت کا بصیرت افروز یقین دلایا اور اپنی ایک پُرانی رؤیا کا حوالہ دیا ہے۔اس وقت چونکہ آپ کے مکاشفات