مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 102

مکتوب نمبر۶۶ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج ایک اشتہار از طرف میاں عبدالحق صاحب غزنوی جو جماعت مولوی عبدالجبار صاحب میں سے ہے، پہنچا جس میں وہ اپنے الہام ظاہر کرتے ہیں کہ یہ شخص یعنی یہ عاجز جہنمی ہے۔ ۱؎ اور دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔اس گناہ سے کہ مثیل مسیح ہونے کا کیوں دعویٰ کیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس اشتہار کے بہت سے پرچے انہوں نے امرتسر میں تقسیم کئے ہیں۔امید کہ کوئی پرچہ آپ کی خدمت میں پہنچا ہوگا۔درحقیقت یہ اشتہار مولوی عبدالجبار صاحب کی طرف سے معلوم ہوتے ہیں جو شاگرد کی طرف سے مشہور کئے گئے ہیں۔اس میں مباہلہ کی بھی وہ درخواست کرتے ہیں اور اگرچہ اس میں تحقیر اور استہزاء کے طور پر کئی لفظ بھرے ہوئے ہیں مگر میں نے ان سے قطع نظر کرکے اصلی سوال کا جواب دے دیا ہے۔مولوی محمد حسین کا بھی خط آیا تھا کہ میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔مجھے لکھو کہ ایسا دعویٰ کیا ہے یا نہیں کہ میں مسیح موعود ہوں۔حقیقت میں یہی دعویٰ ہے۔اس لئے ہاں کے ساتھ جواب دیا گیا۔مجھے آپ کے اوراق کا انتظار ہے اور رسالہ ازالہ اوہام کے ختم ہونے کے لئے بھی انتظار باقی ہے۔آپ ان تمام پہلوؤں کے لحاظ سے جواب دیں۔میری طبیعت اکثر علیل رہتی ہے۔دورانِ سر بہت رہتا ہے۔کبھی کبھی دورہ دردِ سر ہو جاتا ہے۔اس لئے کوئی محنت کا کام نہیں ہو سکتا۔خدا جانے ان رسالوں کا کام کیونکر ہو گیا۔ورنہ میری حالت اس لائق نہیں۔شہاب الدین انتظار میں بیٹھا ہے، اگر اشارہ ہو تو بھیج دوں۔آپ کا پرانا نیاز مند فتح محمد مدت سے امیدوار ہے اس کی طرف بھی توجہ فرماویں۔محمد بیگ کے مرض کی کیا صورت ہے۔مولوی غلام علی صاحب کی طبیعت اب کیسی ہے۔