مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 103
ایک دن بعض شریر لوگوں نے سخت غم میں مجھے ڈال دیا کہ مولوی غلام علی صاحب کا انتقال ہو گیا ہے پھر فتح محمد کے خط آنے پر تسلی ہوئی۔والسلام ۹؍ فروری ۱۸۹۱ء غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر۶۷ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آں مخدوم کے دو ورقہ کے انتظار ہے تا رسالہ ازالہ اوہام کا خاتمہ طبع ہو کر شائع کیا جائے۔امرتسر کے غزنوی مولوی صاحبوں نے، سنا گیا ہے کہ بہت شور کیا ہے۔یہ بھی خبر سنی ہے کہ مولوی عبدالرحمن لکھوکے والے مولوی محمد صاحب کے جو صاحبزادہ ہیں انہوں نے کچھ اپنے الہامات لکھ کر بجواب خط اخویم عبدالواحد صاحب جموں روانہ کئے ہیں۔حامد علی ان الہامات کو سن آیا ہے۔مگر وہ اس کو یاد نہیں رہے۔ایسے الفاظ ان میں ہیں کہ ضلّوا واضلّوا۔اگر عبدالواحد صاحب نے آں مخدوم کو ان سے اطلاع دی ہو تو مطلع فرماویں۔چند روز سے نواب محمد علی خاں صاحب رئیس کوٹلہ قادیان میں آئے ہوئے ہیں۔جوان صالح الخیال مستقل آدمی ہے۔انٹرس تک تحصیل انگریزی بھی ہے۔میرے رسالوں کو دیکھنے سے کچھ شک و شبہ نہیں کیا بلکہ قوت ایمانی میں ترقی کی۔حالانکہ وہ دراصل شیعہ مذہب ہیں مگر شیعوں کے تمام فضول اور ناجائز اقوال سے دست بردار ہوگئے ہیں۔صحابہ کی نسبت اعتقاد نیک رکھتے ہیں۔شاید دو روز تک اور اسی جگہ ٹھہریں۔مرزا خدا بخش صاحب ان کے ساتھ ہیں۔الحمدللہ اس شخص کو خوب مستقل پایا اور دلیر طبع آدمی ہے۔شہاب الدین کی نسبت کیا تجویز ہے؟ یہ عاجز دس روز تک لودہانہ جانے والا ہے۔میرے ساتھ بعض تعلق رکھنے والے رسالوں کو پڑھ کر بڑی استقامت ظاہر کر رہے ہیں۔اس وقت مجھے یہ تمام لوگ اس الہام کا مصداق ٹھہراتے ہیں جو صد ہا مرتبہ ہوچکا ہے یعنی یہ کہ