مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 80

مکتوب نمبر ۲۰ ڈاکٹر جگن ناتھ صاحب ملازم ریاست جموں کے نام ڈاکٹر جگن ناتھ صاحب ملازم ریاست جموں سے آسمانی نشان دکھلانے کے متعلق جو خط و کتابت بتوسل حضرت مولوی نور الدین صاحبسلّمہُ اللہ تعالیٰ ہوئی تھی اُس کے متعلق کسی انٹروڈکٹری ۱؎ نوٹ کی مجھے ضرورت نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود اس خط سے پہلے، جس کا یہاں درج کرنا مقصود ہے، ایک تمہیدی نوٹ لکھ دیا ہے میں اسے ہی درج کر دیتا ہوں۔(یعقوب علی) ڈاکٹر جگن ناتھ صاحب ملازم ریاست جموں کو آسمانی نشانوں کی طرف دعوت۔میرے مخلص دوست اور لِلّٰہی رفیق اخویم حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب فانی فی ابتغائِ مرضات ربّانی ملازم و معالج ریاست جموں نے ایک عنایت نامہ مورخہ ۷؍ جنوری ۱۸۹۲ء اس عاجز کی طرف بھیجا ہے٭ جس کی عبارت کسی قدر نیچے لکھی اوروہ یہ ہے۔خاکسار نابکار نورالدین۔بحضور خدام والا مقام حضرت مسیح الزمان سلمہ الرحمن السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے بعد ٭ حضرت مولوی صاحب کے محبت نامہ موصوفہ کے چند فقرے لکھتا ہوں۔غور سے پڑھنا چاہئے۔نہ معلوم کہ کہاں تک رحمانی فضل سے ان کو انشراح صدرو صدق قدم و یقین کامل عطا کیا گیا ہے اور وہ فقرات یہ ہیں۔’’عالی جناب مرزا جی! مجھے اپنے قدموں میں جگہ دو۔اللہ کی رضا مندی چاہتا ہوں اور جس طرح وہ راضی ہو سکے تیار ہوں۔اگر آپ کے مشن کوانسانی خون کی آبپاشی ضرور ہے تو یہ نابکار (مگر محب انسان) چاہتا ہے کہ اس کام میں کام آوے‘‘۔تَمَّ کلامہ۔جزاہ اللّٰہ حضرت مولوی صاحب جو انکسار اور ادب اور ایثار مال و عزت اور جان فشانی میں فانی ہیں وہ خود نہیں بولتے بلکہ اُن کی روح بول رہی ہے۔درحقیقت ہم اُسی وقت سچے بندے ٹھہر سکتے ہیں کہ جو خداوند منعم نے ہمیں دیا ہم اُس کو واپس دیں یا واپس دینے کیلئے تیار ہو جائیں۔ہماری جان اُس کی امانت ہے اور وہ فرماتا ہے کہ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا ۲؎ سر کہ نہ در پائے عزیزش رود بار گراں است کشیدن بدوش۔منہ