مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 77

مکتوبات احمد 24 جلد اول مکر کرتا ہے یہ خود آپ کی نا سمجھی ہے۔ مگر لطیف اور مخفی تدبیر کو کہتے ہیں جس کا اطلاق خدا پر نا جائز نہیں اور عرش کا کلمہ خدا تعالیٰ کی عظمت کے لیے آتا ہے کیونکہ وہ سب اونچوں سے زیادہ اونچا اور جلال رکھتا ہے۔ یہ نہیں کہ وہ کسی انسان کی طرح کسی تخت کا محتاج ہے۔ خود قرآن میں ہے کہ ہر ایک چیز کو اُس نے تھاما ہوا ہے اور وہ قیوم ہے جس کو کسی چیز کا سہارا نہیں ۔ پھر جب قرآن شریف یہ فرماتا ہے تو ۔ - عرش کا اعتراض کرنا کس قدر ظلم ہے ۔ آپ عربی سے بے بہرہ ہیں آپ کو مکر کے معنی بھی معلوم نہیں ۔ مکر کے مفہوم میں کوئی ایسا نا جائز امر نہیں ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا ۔ شریروں کو سزا دینے کے لیے خدا کے جو باریک اور مخفی کام ہیں ان کا نام مکر ہے۔ لغت دیکھو پھر اعتراض کرو میں اگر بقول آپ کے وید سے اُمّی ہوں تو کیا حرج ہے کیونکہ میں آپ کے مسلم اصول کو ہاتھ میں لے کر بحث کرتا ہوں ۔ مگر آپ تو اسلام کے اصول سے باہر ہو جاتے ہیں ۔ صاف افترا کرتے ہیں چاہیے تھا کہ عرش پر خدا کا ہونا جس طور سے مانا گیا ہے اوّل مجھ سے دریافت کرتے پھر اگر گنجائش ہوتی تو اعتراض کرتے ۔ اور ایسا ہی مکر کے معنی اول پوچھتے پھر اعتراض کرتے اور نشان خدا کے پاس ہیں وہ قادر ہے جو آپ کو دکھلاوے ۔ والسلام علی من اتبع الہدی ۔ خاکسار مرزاغلام احمد حیات احمد جلد دوم نمبر دوم صفحه ۴۲ ۴۳۰