مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 74

زبان کے اشارہ سے روپیوں کا ڈھیر جمع ہو جائے گا۔خدانخواستہ ایسا کیوں ہونے لگا کہ آریہ سماج کے دولتمند اور ذی مقتدرت لوگ آپ کو چند روز کے لئے بطور امانت روپیہ دینے سے انکار کریں اور آپ کی دیانتداری اور امانت گزاری میں اُن کو کلام ہو۔کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ادنیٰ ادنیٰ آدمی جیسے چوہڑے چمار یا سانسی اپنی قوم میں کچھ ذرا سا اعتبار رکھتے ہیں، وہ بھی اپنی برادری میں اس قدر مسلّم العزت ہوتے ہیں کہ قوم کے ذی مقدرت لوگ کسی مشکل کے وقت صدہا روپیہ سے بطور قرضہ وغیرہ اُن کی امداد کرتے ہیں اور آپ تو بقول آپ کے بڑے ذی عزت آدمی ہیں جن کی عزت سارے آریہ سماجوں میں تسلیم و قبول کی گئی ہے۔ماسوا اس کے یہ روپیہ صرف کچھ مدت کیلئے امانت کے طور پر آپ کے ہاتھ میں دیں گے یہ نہیں کہ وہ روپیہ آپ کی مِلک کر دیں گے۔قصہ کوتاہ یہ کہ آج ہم یہ خط رجسٹری کرا کر آپ کی خدمت میں بھیجتے ہیں اور اگر بیس دن تک آپ نے ہمارا جواب نہ بھیجا اور قادیان میں آ کر ایک سال تک ٹھہرنے کیلئے بات نہ ٹھہرالی اور ان شرائط کو جو عین انصاف اور حق پسندی پر مبنی ہیں قبول نہ کیا تو پھر بعد گزرنے بیس روز کے یہ حال کنارہ کشی آپ کا چند اخباروں میں شائع کرا کر لوگوں پر ثابت کیا جائے گا کہ آپ کا ایک سال تک قادیان میں ٹھہرنے کے لئے مجھ سے دریافت کرنا سراسر لاف و گزاف پر مبنی تھا۔نہ آپ کی نیت صاف و درست تھی نہ آپ کی ایسی حیثیت و عزت تھی جس کا آپ نے وعدہ کیا تھا۔اب ہم اس خط کو ختم کرتے ہیں اور مدت مقررہ تک ہر روز آپ کے جواب کے منتظر رہیں گے۔٭ والسلام علی من اتبع الہدیٰ خاکسار۔غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۸۸۵ء٭ روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مؤرخہ ۲؍ فروری ۱۹۴۳ء صفحہ ۳