مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 73

مسلمان ہو جاؤں گا۔آپ ہی کے اعتبار پر نہ چھوڑوں بلکہ جیسے آپ روپیہ وصول کرنے کے باب میں اپنی پوری پوری تسلی کریں گے ایسا ہی میں بھی آپ کے مسلمان ہونے کے لئے کوئی اور تدبیر کر لوں جس سے مجھے بھی پورا پورا یقین اور کامل تسلی ہو جائے کہ آپ بھی درحالت انکار اسلام اپنی عہدشکنی کے ضرر سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔سو عدالت کی بات جس میں میں اور آپ برابر ہیں یہ ہے کہ ایک طرف یہ خاکسار چوبیس سَو روپیہ حسب نشاندہی آپ کے کسی جگہ جمع کرا دے اور ایک طرف آپ بھی اسی قدر روپیہ حسب نشاندہی اس عاجز کے بوجہ تاوان انکار اسلام کسی مہاجن کی دوکان پر رکھوا دیں تا جس کو خدا تعالیٰ فتح بخشے اُس کیلئے یہ روپیہ فتح کی ایک یادگار رہے۔یہ تجویز کسی فریق پر ظلم نہیں بلکہ فریقین کیلئے موجب تسلّی و سراسر انصاف ہے کیونکہ جیسے آپ کو یہ اندیشہ ہے کہ آپ بصورت مغلوب ہونے اس عاجز کے چوبیس سَو روپیہ جبراً وصول نہیں کر سکتے۔علی ہذا القیاس! مجھے بھی یہ فکر ہے کہ میں بھی بعد مغلوب ہونے آپ کے آپ کو جبراً مسلمان نہیں کر سکتا۔سو یہ انتظام حقیقت میں نہایت عمدہ اور مستحسن ہے کہ ایک طرف آپ وصولی روپیہ کے لئے اپنی تسلی کر لیں اور ایک طرف میں بھی ایسا بندوبست کر لوں کہ درحالت عدم قبول اسلام آپ بھی شکست کے اثر سے خالی نہ جانے پاویں۔اور اگر آپ اسلام کے قبول کرنے میں صادق النیت ہیں تو آپ کو روپیہ جمع کرنے میں کچھ نقصان اور اندیشہ نہیں کیونکہ جب آپ بصورت مغلوب ہونے کے مسلمان ہو جائیں گے تو ہم کو آپ کے روپیہ سے کچھ سروکار نہیں ہوگا بلکہ یہ روپیہ تو صرف اُس حالت میں بطور تاوان آپ سے لیا جائے گا کہ جب آپ عہد شکنی کر کے اسلام کے قبول کرنے سے گریز یا روپوشی اختیار کریں گے۔سو یہ روپیہ بطور ضمانت آپ کی طرف سے جمع ہوگا اور صرف عہد شکنی کی صورت میں ضبط ہوگا نہ اور کسی حالت میں۔رہا یہ امر کہ آپ اس قدر روپیہ کہاں سے لائیں گے تو اس کا فیصلہ تو آپ ہی کے اقرار سے ہو گیا۔جب کہ آپ نے اقرار کر لیا کہ میں بڑا عزت دار آدمی اور قوم میں مشہور و معروف ہوں۔کیونکہ جس حالت میں آپ اتنے بڑے عزت دار ہیں تو اوّل یہ روپیہ آپ کے آگے کچھ چیز ہی نہیں بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ آپ کے دولت خانہ میں جمع ہوگا اور اگر کسی اتفاق سے آپ پر افلاس طاری ہے تو قوم کے لوگ ایسے معزز اور سرگروہ سے امداد وغیرہ کے بارے میں کب دریغ کریں گے بلکہ وہ تو سنتے ہی ہزار ہا روپیہ آپ کے قدموں پر رکھ دیں گے اور صرف آپ کی ایک