مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 60
مکتوبات احمد ۶۰ جلد اول مکتوب نمبر ۱۲ پنڈت کھڑک سنگھ کے نام پنڈت کھڑک سنگھ ایک آریہ تھا۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ۱۸۷۸ء میں قادیان میں گفتگو کرنے آیا اور بعض مذہبی مسائل پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے گفتگو بھی کی اور لاجواب ہو گیا ۔ پھر جب وہ قادیان سے گیا تو آر یہ مذہب سے بیزار ہو چکا تھا چنانچہ بالآخر وہ آریہ تو نہ رہا اور عیسائی ہو گیا اور آریہ مذہب کی تردید کا جو طریق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سیکھا تھا اسی طریق پر عیسائی ہو کر آریوں کے خلاف کئی رسالے لکھ ڈالے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر اتمام حجت کی غرض سے قرآن مجید کے کلام الہی ہونے کے ثبوت میں مندرجہ ذیل سوال لکھ کر بھیجا تھا ۔ مگر آخری وقت تک پنڈت کھڑک سنگھ اس کا جواب نہ دے سکا اور اس سوال کو ہی ہضم کر گیا۔ یہ مضمون تقریباً آج سے چونتیس برس پیشتر کا لکھا ہوا ہے۔ (یعقوب علی علی اللہ عنہ ) قرآن مجید کے کلام الہی ہونے کی بڑی بھاری نشانی یہ ہے کہ اُس کی ہدایت سب ہدایتوں سے کامل تر ہے اور اس دنیا کی حالت موجودہ میں جو خرابیاں پڑی ہوئی ہیں ، قرآن مجید سب کی اصلاح کرنے والا ہے ۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ قرآن مجید اور کتابوں کی طرح مثل کتھا کے نہیں ہے بلکہ مدلل طور پر ہر ایک امر پر دلیل قائم کرتا ہے ۔ اس دوسری نشانی پر ۔۔۔ نام کھڑک سنگھ وغیرہ ہم نے پانسو روپیہ کا اشتہار بھی دیا تا کوئی پنڈت وید میں یہ صفت ثابت کر کے دکھلا دے کہ وید ۔ ے کہ وید نے کن دلائل سے اپنے عقائد کو ثابت کیا ہے ۔ مگر آج تک کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ دم بھی مار سکے ۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ وید میں نہ انجیل میں نہ توریت میں ہرگز طاقت نہیں کہ کسی فرقہ مخالف کا رڈ مثلاً دہر یہ کارڈ یا طبیعہ کا رڈ یا ملحدوں کا رڈ یا منکرِ الہام کارڈ یا منکرِ نبوت کا رڈیا بت پرست کارڈ یا منکر نجات کا رڈ یا منکر عذاب کارڈ یا منکر وحدانیت باری کارڈ یا کسی اور منکر کارڈ دلائل قطعیہ سے کر کے دکھا دے ۔ یہ سب کتابیں تو مثل مُردہ کے پڑی ہیں کہ جس میں جان نہ ہو ۔ کھڑک سنگھ جولڑکوں کو بہکاتا ہے کہ وید میں سب کچھ لکھا ہے جو وہ سچا ہے تو ہم اُس کو پانسور و پیہ دینا کرتے ہیں ہم سے ٹو نبو لکھا لے۔ کسی فرقہ کے رڈ