مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 670
سید مظہر حسین الہ آبادی سے خط و کتابت جناب مولوی صاحب مجمع کمالات ظاہری و باطنی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔جواب کارڈ سے آج سرفرازی حاصل ہوئی۔کچھ رنج اور کچھ خوشی ہوئی۔خوشی تو اس لئے کہ آپ کی خیریت سے مطلع ہوا اور رنج اس لئے کہ میرے پہلے عریضہ کے گم ہوجانے سے جواب باصواب نہ پہنچا جس پر مشیت ایزدی میں کسی کو کچھ دخل نہیںکچھ اس میں بہتری ہوگی۔پھر اپنا حال لکھتا ہوں اور جواب کے واسطے لفافہ بھی رکھتا ہوں خدا کرے پہنچے اورآپ جواب باصواب سے مطلع فرماویں تاکہ مجھے اپنا پتہ ملے۔حضرت میری حالت ہے کہکے شغل سے اَنَا مَجْبُوْرٌ کی صدا دل گم گشتہ سے سنتا ہوں اور ہمہ اوست کا جلوہ آنکھوں سے دیکھتا ہوں کثرت میں وحدت اور وحدت میںکثرت معلوم ہوتی ہے۔متکلّمین لائے نفی جنس کی خبرہا محذوف کرتے ہیںاور الہ کو بمعنی معبود بر حق کے کہتے ہیں۔یہ معنے مجھے تاویلی معلوم ہوتے ہیں صوفیاء لائے نفی کی خبر غیر اللہ محذوف کرتے ہیں اور الہ بمعنی مطلق معبود کے کہتے ہیں یہ معنی ہمہ اوست کو ثابت کرتے ہیں اور مطابق قرآن اور حدیث معلوم ہوتے ہیں۔ ۱؎ سے بھی ہمہ اوست کی تصدیق ہوتی ہے اور آیت۲؎ بھی اسی کو ثابت کرتی ہے۔پنجگانہ نماز میں ہم لاالہ غیرککہتے ہیں اور ۳؎ پڑھتے ہیں۔یہ سب آیتیں اور حدیثیں صاف صاف کہتی ہیں کہ مجبوروں پر احکام تکلیفی صادر ہوتے ہیں غایت درجہ یہ ہے کہ مومنین بجا آوری احکام پر مجبور ہیں اور کفار ومشرکین عدم تعمیل احکام پر مجبور کئے گئے ہیں کسی کو ذرا بھی اختیار نہیں۔۴؎ بھی اسی کا شاہد ہے جب میں بے خودی کے عالم میں ان مطالب و دلائل کو مسلمان سے بیان کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ قرآن اور حدیث پر عقیدہ رکھ کر عمل کرو تو اللہ پاک مقبول کرے گااور سینہ کھول دے گا۔متکلمین کی اٹکلیں ہیں اور تاویلیں ہیں ا ن سے کوئی سچا مومن نہیں ہوسکتا تو مجھے