مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 671
کافرو مجنون و زندیق کہتے ہیں۔میں خدا کا شکر کرتا ہوں اور اندھے مسلمانوں پر سخت افسوس کرتا ہوں جب میں بھی مثل ان کے اندھاتھا تومجھے سچا مسلمان جانتے تھے۔جب اللہ پاک نے روشنی دی تو مجھے زندیق کہتے ہیں۔بہر حال میں خوش ہوں اللہ پاک مجھ سے راضی ہے۔خدا جانے یہ آپ کی دعا کا اثر ہے یاپیر ومرشد برحق کی توجہ کا باعث جو کچھ ہے یہ حالت ہے جو عرض کی۔اس مرتبہ حضرت مرشد برحق نے بعد سننے حال کے حصنِ حصین پڑھنے اور عمل کرنے کی بھی اجازت فرما دی ہے فقیر پابند ہے آپ کی زیارت کا اشتیاق بھی ترقی پر ہے دیکھئے یہ دولت کب نصیب ہو۔دعاکیجئے کہ جلدی اس دولت کے حصول کے اسباب مہیا ہوجاویں۔جواب سے جلدی سرفراز فرماویں کہ یہ حالت اچھی ہے یا بُری۔(۱۱؍اگست ۱۸۸۸ء) ٭ خمکتوب نمبر ۲ جواب مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ۔آپ نے جو کچھ خط میں لکھا ہے اگر خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کا علم قطعی اور یقینی بخشا ہے جس میںشک اور شبہ کو راہ نہیں تو یہ حالت آپ کے لئے اچھی ہے اور اگر ایسا نہیں تو پھر دعوٰی بے دلیل سے بچنا چاہیے۔ ۱؎ قرآن شریف کی بعض عبارات ذوالوجوہ (ذوالمعارف) ہیں اور بعض آیات بینات سریع الفہم اور متبادر الفہم۔آیات جو بینات میں داخل ہیں وہی ہیں جو جابجا خالق ا و رمخلوق کافرق کر تی ہیں یہاں تک کہ قرآن سے ثابت ہے کہ یہ ابدی فرق ہے۔یہ تو سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود کے ساتھ تمام وجود ایسے ہی ہیں کہ گویا کچھ بھی نہیں۔اور ہر ایک جگہ وہی طاقت عظمیٰ کر رہی ہے مگر جو بظاہر اجسام اور ارواح نظر آرہے ہیں ان کو ہیچ اور کالعدم کہوتو کہو مگر ان کو خدا تو نہیںکہہ سکتے۔یہ سب ہیچ اور کالعدم ہیں اور خدائے ہیچ اور کالعدم نہیں۔والسلام علیٰ من اتبع الھدٰی۔۱۶؍ اگست ۱۸۸۸ء