مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 664 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 664

اقول: ہاں وہ آپ کے بھائی صاحب وجودی جو ہوئے۔وجودیوں سے بڑھ کر دنیا کے مکر وفریب اور کس کو یاد ہوں گے۔قولہ: جیسے آپ اپنے دعوؤں سے دولت مند ہوگئے۔اقول: ۱؎ َ۲؎  ۳؎ ۴؎ ۵؎ ۶؎  ۔۷؎ قولہ:کوئی خد اپرست میں نے نہیں سنا کہ ایسے مزخرفات میں پھنسا ہو یعنی جس نے ایسے دعوے کئے ہوں۔اقول: ۸؎) وَقَدْ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْنَا بِوَحْیِہٖ وَاِلْھَامِہٖ وَ دَقَائِقَ مَعَارِفِہٖ وَ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِنْ عِبَادِہٖ اَفَلاَ نُحَدِّثُ بِٰالٓائِہٖ وَ نُعْمَائِہٖ اَیُّھَا الْجَاھِلُوْنَ۔دانا آدمی ہر ایک درخت کو اس کے پھلوں سے پہچان سکتا ہے۔کاذب آدمی اپنے دعوٰی کذب سے خود ہلاک ہوجاتا ہے۔سو اس کی ہلاکت ہی اس کے مفتری ہونے کی نشانی ہوتی ہے۔لیکن صادق کبھی ہلاک نہیں ہوتا اور راستباز کبھی کاٹا نہیں جاتا۔اس کے چاروں طرف رحمت ایزدی نگہبان رہتی ہے۔بھلا یہ کیونکر ہو کہ اپنے فد ا شدہ بندوں کو خدا تعالیٰ ذلیل کرے۔جاہل ان کی ذلت کے لئے کوشش کرتا ہے مگر وہ عزیز لوگ ہر گز ذلیل نہیں ہوتے۔خدائے عزّوجلّ وہ وفادار خدا ہے کہ جو ایک قدم آگے رکھنے والے کے لئے دس قدم آگے رکھتا ہے۔اور میانہ چلنے والے کے لئے دوڑتا ہے۔اس کا کسی سے بے وجہ رشتہ نہیں۔اگر تو اس کے