مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 663
۱؎ قولہ:میںنے سنا ہے کہ آپ کے ایک بھائی اپنے آپ کو صاحب الہام اور لال بیگ کا چیلہ بتلاتے ہیں۔اقول:الہام کی بات آپ نے خوب کہی۔وجودیت کی رگ کیا کیا افترا آپ کے منہ سے نکالتی ہے۔نہ معلوم وجودیوں کو ناحق جھوٹ بولنے سے کیا مزہ آتا ہے۔اس کا یہی باعث ہے کہ جس نے خد اتعالیٰ پرجھوٹ بولا پھر اس کا اوروں کے لئے منہ کُھل جاتا ہے۔اب واضح ہو کہ یہ شخص اپنے تئیں ملہم نہیں کہلاتا بلکہ اس خدائے عزّوجلّ کا قائل ہی نہیں جو اپنے نیک بندوں کو الہام دیتا ہے۔ہاں لال بیگ کا جھنڈا کھڑ اکیا ہوا ہے۔بات یہ ہے کہ دراصل وہ آپ کی طرح اوّ ل وجودی تھا۔پھر جیسا کہ وجودی ترقی کرکے دہریہ بنتے ہیں اور انکار صانع تک نوبت پہنچاتے ہیں۔ا س بیچارہ کی بھی وجودیت کی شامت سے اسی حد تک نوبت پہنچی یہاں تک کہ وجودیت کے جنّنے اللہ اور رسول کی نسبت بھی زباں درازیاں کرائیں اب اسی جنّ کی ترغیب سے بقول آپ کے بھنگیوں کے چیلہ کرنے کا ڈھنگ نکالا ہے۔مگرحضرت یہ آپ کا بھائی بُرا نہیں اور نہ آپ بُرے ہیں۔بلکہ دراصل یہ وجودی مذہب ہی بُر اہے جس کا ادنیٰ نمونہ یہ ہے۔آپ کے اس بھائی کا حقیقی بھائی بھی وجودی ہے اور مرشد اس کا گلاب شاہ نام ایک بھاری وجودی ہے اوراللہ اور رسول سے بالکل روگرداں ہے۔قرآن شریف کی نسبت وہ کہتا ہے کہ پیغمبر خد اصلی اللہ علیہ وسلم نے آپ بنا لیا تھا۔جیسا کہ اکثر وجودیوں کا یہی اعتقاد ہے۔اس پر دلیل پید ا کرنے کے لئے وجودی مذہب سے اس نے یہ نکتہ لیاہے کہ جس حالت میں مخلوق حقیقت میں خد اہی ہے تو پھر اور خدا کون ہے جو قرآن کو نازل کرتا۔یہ شخص یہ بھی کہتا ہے کہ باوانانک کا گرنتھ قرآن شریف سے اچھا ہے اور بھنگ، چرس و شراب وغیرہ کو حلال جانتا ہے۔غرض یہ لوگ تو آپ کے ہی بھائی ہیں میرا بھائی تو ان میں سے کوئی نہیں۔میرا ایک بھائی تھا مدت ہوئی وہ اس دنیا سے کوچ کر گئے ہیں۔فَتَدَ بَّرُوْا وَتَنَدَّمُوْا۔قولہ:ان کو دنیا کمانے کی خوب تدبیر سوجھی۔