مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 662 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 662

مکتوبات احمد ۶۶۲ جلد اول حال بھی ۔ مگر وجود یوں میں ایسا کون ہے کسی آدھہ کا نشان تو دو۔ وہ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ کے مصداق ہو رہے ہیں بمقابل ان کے شکر کا مقام ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس قدر تکمیل علم و عقل کے لئے معارف و حقائق و دقائق قرآن شریف کے کھولے ہیں وہ ایک ہی امر طالب حق کیلئے خارقِ عادت ہے ۔ آپ نے تو اس عاجز کی نسبت بلا تحقیق رومی صاحب کا یہ شعر پڑھا۔ ای پس بسا بہر ابلیس آدم دستے بناید دے داد ہست دست پر و اپنے مرشد فن الرحم کو فرشتہ بنایا لیکن اگر برائے ایمان یا انصاف پینی ہوتی تو ا تمیز کیئے یہ پر اس یہ کہ ان دونوں میں ابلیس کون ہے آیہ کریمہ لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کو محک امتحان بنایا جاتا یعنی ایک مجلس میں ایک دو آیت قرآن شریف کی پیش کر کے اس عاجز اور میاں فضل الرحمٰن سے دقائق اور معارف اس آیت کے پوچھے جاتے ۔ تا دیکھا جاتا کہ کس کو خدا تعالیٰ نے علم اسرار قرآن میں بسطت و وسعت دی ہے۔ اِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموالے سمجھنا چاہیے کہ ولایت وارث الانبیاء ہونے کا دعوی ہے ۔سو نبی اپنی وفات کے بعد اپنا تر کہ دینار و درہم تو نہیں چھوڑ تے ہیں۔ پس جس نے ان علوم اور برکات کو کامل طور پر پایا وہی کامل طور پر ان کا وارث ہے۔ اور اگر یہ امتحان کافی نہیں تو لازم تھا کہ دوسرا امتحان جو لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا کے متعلق ہے کیا جاتا وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى عَزَّوَجَلَّ مُخْبِرًا مِنْ اِنْعَامِهِ عَلَى عَبْدِ صَالِحٍ أَتَيْتُهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنَهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا قولہ: شیخ صنعان جس نے حضرت شیخ کا انکار کیا تھا ان کا جو حال ہوا مشہور ہے۔ اقول : یادر ہے کہ یہ بات بالکل باطل ہے کہ جو شخص انبیاء یا اولیاء کا انکار کرے اس کو اسی دنیا میں جھٹ پٹ سزا مل جاتی ہے یہ تو وجودیوں کا ناقص خیال ہے جیسے ان کی عقل کچی ہے ایسا ہی ان کا خیال بھی کچا ہے ۔ اس فیصلہ اور تصفیہ کے لئے کامل طور پر عدالت کا دن نزدیک ہے ۔ وَقَالَ اللهُ تَعَالَى وَتَقَدَّس - يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفَدًا وَ نَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَى جَهَنَّمَ وِرْدًا وَقَالَ عَزَّوَجَلَّ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ الواقعه: ۲۸۰ فاطر : ۲۹ ۳ یونس : ۶۵ الكهف: ۶۶ ۵ مريم: ۸۷