مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 659 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 659

قائل ہوتا ہے۔مگروہ لوگ بوجہ اس راز دقیق کے جو ان کو خدا تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے گم کے حکم میں ہیں۔ ۱؎ وہ خلق اللہ سے ہروقت دور ہوتے ہیں۔اسی وجہ سے ان کی اندرونی حالت میں تصرف کر نا اور ان کے اخلاق او رافعال اور اطوار کی نسبت کوئی رائے لگانا ہر ایک معمولی حالت کے انسان کا کام نہیں ورنہ ہلاک ہوجائے گا۔چو بیت المقدس دروں پر ز تاب رہا کرد و دیوار بیروں خراب قولہ:آپ لکھتے ہیں کہ شیخ عبد القادر کو مجھ سے میرے طریق اور قدم میں مناسبت ہے مگر یہ بھی مثل دعوی مجددیت و الہامیت دعوی بے دلیل ہے۔چہ نسبت خاک را باعالم پاک۔اقول:میں آپ پر کئی مرتبہ اسی خط میں واضح کر چکا ہوں کہ مجددیت اور الہامیت کا دعوٰی بے دلیل نہیں بلکہ میں نے اس حجت کو اس کمال تک پہنچایا ہے کہ اس کی نظیر ملنامشکل ہے۔کوئی سال ایسانہیں گزرتا کہ جسمیں کوئی الہامی پیش گوئی پوری ہوکر مخالفوں پر حجت نہ ہو۔دشمن بھاگتے چلے جاتے ہیں، مخالفوں پر سخت رعب پڑ رہا ہے اور انوار الٰہی دن رات بلکہ ہر طرفۃُ العین میں برابر نازل ہورہے ہیں۔مگر جو دل کے اندھے اور۲؎ کے مصداق ہیں وہ کیونکر ان نوروں کا مشاہد ہ کر سکتے ہیں۔۳؎ ۴؎ رہا آپ کا قول کہ چہ نسبت خا ک را باعالم پاک۔سچ تو یہ ہے کہ میں اور میرا برادر صالح شیخ عبد القادر ہم دونوں خاک ہی ہیں۔مگر الحمد للہ و المنتہ کہ تجلیات الٰہیہ نے اس مشت خاک پر بڑے بڑے کا م کئے ہیں۔اب اگر ایک وجودی نادان ان تجلیات کو دیکھ نہ سکے تو کیا حرج اور کیا نقصان۔قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَتَقَدَّس۔۔۵؎ بہر حال ہم کو ایسے اقوال پر اختلال سے کچھ رنج نہیں۔عوام الناس جو لکیر کے طور پر اولیاء اور