مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 656
مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔انا الصدیق الاکبر لایقولھا بعدی الاکذاب و انا القرآن الناطق (میں صدیق اکبر ہوں میرے بعد یہ لفظ سوائے کذاب کے کوئی نہ کہے گا اور میں قرآن ناطق ہوں) اور جو سید الشہداء سے معرکۂ کربلا میں فخریہ اشعار مروی ہیں اور ایسا ہی تمام ائمہ اہل بیت اور سید عبدالقادر جیلانی ؒ اور دیگر ائمہ ہدٰی سے بھی ایسے کلمات صادر ہوئے ہیں۔ان کلمات کو نعمۃ اللہ اور تشبت رحمۃ اللہ کی قبیل سے شمار کرنا چاہیے نہ کہ ہرزہ سرائی اور خود ستائی کی جنس سے۔اب رہی یہ بات کہ میاں فضل الرحمن کے پاس لوگ بہت آتے ہیں اور مرادیں پاتے ہیں اس کا آخری فقرہ تو پیراں نمی پرند مریداں مے پر انند میں داخل ہے۔ہاں یہ قریب قیاس ہے کہ عوام کالانعام کہ جونیک اور بد میں تمیز نہیں کر سکتے بہت آتے ہونگے۔مگر کیا پنجاب کے مہنتوں سے بھی زیادہ جن کا لاکھ لاکھ آدمی چیلہ ہے۔ہمارے ہی قریب ایک جاہل اور نادان وجودی رہتا ہے جو موافق عادت وجودیوں کے تارک صوم و صلوٰۃ اور بہت سی ناکردنی اور ناگفتنی باتیں اس کی جماعت میں پائی جاتی ہیں مگر قریب ایک لاکھ کے اس کا مرید ہوگا۔بات یہ ہے کہ ایسوں کو تیسے مل جاتے ہیں۔حضرت سیدنا و مولانا مخدومنا و مخدوم الکل خاتم الرسل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہزاروں تکالیف اُٹھا کر تیرہ برس میںمکہ معظمہ میں سَو یا سَوا سَوکافر کو خلعت ایمان پہنایا اور مسیلمہ کذّاب پر صرف ایک ماہ میں لاکھ آدمی کے قریب ایمان لے آیا۔یہ قاعدہ ہے کہ حق کا اثر دیر سے پڑتا ہے مگر دیر پا ہوتا ہے اور باطل کا اثر جلد پڑتا ہے اور جلدی ہی دو رہو جاتا ہے۔مرد ان خد اکی شان کمی جماعت سے کچھ کم نہیں ہوتی۔قیامت کے میدان میںکئی ایسے رسول آئیںگے جن کے ساتھ دو یا ایک پیروکار ہوگا اور بعض ایسے ہونگے کہ اکیلے آئیںگے کثرت پر خوش ہونا جہال کی عادت ہے جو حقیقت اور مغز کو نہیں دیکھتے۔راستی اور حقیقی برکت کو تلاش نہیں کرتے آجکل بہتیرے حرام خور پیر زادے ہیں جو ہزاروں جاہل سادہ لوح ان کی قدم بوسی کیلئے آتے ہیں اور ان کے زعم میں وہ مرادیں دیتے ہیں۔۱؎ سچ تو یہ ہے کہ جس کو خدا تعالیٰ گمراہ کرے اس کوکون ہدایت دیوے۔اگر میاں فضل الرحمن میںکچھ قبولیت اور برکت ہے تو وہ کیوں مقابلہ کیلئے میدان میں نہیں آتے۔بہر حال جب