مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 641 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 641

چاہا ہے۔اصل مطلب تو آپ نے چھوڑ دیا۔یعنی آزمائش کے واسطے وقت اور مقام مقرر نہیں کیا بلکہ پھر آپ نے اپنی عادت قدیمہ کے مطابق کاغذی گھوڑے دوڑانے شروع کر دیئے۔جناب من! جس طرح آپ نے فیصلہ آسمانی میں چھاپا تھا۔اسی طرح اشاعت السنۃ میں ان صوفی صاحب نے جواب تُرکی بہ تُرکی شائع کر دیا ہے۔آپ کو تو غیرت کر کے بلا تحریک دیگرے خود ہی طیار ہو جانا چاہیے تھا۔برعکس اس کے تحریک کرنے پر بھی آپ بہانہ کرتے ہیں اور ٹلاتے ہیں۔صوفی صاحب نے خود قصداً اپنا نام پوشیدہ نہیں رکھا بلکہ مولوی محمد حسین صاحب نے کسی مصلحت سے ظاہر نہیں کیا۔ناحق آپ نے کلمات گستاخانہ صوفی صاحب کی نسبت لکھ کر ارتکاب عصیان کیا۔سو آپ کو اس سے کیا بحث ہے۔آپ کو تو اپنے دعویٰ کے موافق تیار ہونا چاہیے۔مولوی محمد حسین صاحب خود ذمہ وار ہیں۔فوراً مقابلہ پر موجود کر دیں گے۔لہٰذا اَب آپ ٹلائیں نہیں۔مرد میدان بنیں اور صاف لکھیں کہ فلاں وقت اور فلاں جگہ پر موجود ہو کر سلسلہ آزمائش و اظہار کرامت متدعویہ شروع کیا جائے گا۔یہ عاجز بصد عجز و نیاز عرض کرتا ہے کہ آپ اپنے دعویٰ میں اگر سچے ہو تو حیلہ بہانہ کیوں کرتے ہو۔میدان میں آؤ۔دیکھو یا دکھاؤ۔صاف باطن لوگ دغل باز نہیں ہوتے۔حیلہ بہانہ نہیں کیا کرتے۔برکات آسمانی والے کمیٹیاں مقرر کیا کرتے ہیں۔رجسٹر کھلوایا کرتے ہیں۔اس قسم کی کارروائی صرف دھوکہ دینا اور دفع الوقتی پر مبنی ہے۔افسوس صد افسوس۔اللہ سے ڈرو۔قیامت پیش نظر رکھو۔ایسی مریدی پیری پر خاک ڈالو۔جس مطبع میں آپ اپنا مضمون چھاپنے کے لئے بھیجیں اس عاجز کے مضمون کو بھی زیر قدم چھاپ دیں۔عریضہ نیاز۔میرعباس علی از لدھیانہ۔روز دو شنبہ۔۹؍ مئی ۱۸۹۲ء جواب جواب الجواب مکتوب نمبر ۶۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی بعد ہذا بخدمت میر عباس علی صاحب واضح ہو کہ آپ کا جواب الجواب مجھ کو ملا۔جس کے پڑھنے سے بہت ہی افسوس ہوا۔آپ مجھ کو لکھتے ہیں کہ صوفی صاحب کے مقابلہ پر مردِ میدان بنیں۔اگر سچے ہو تو حیلہ بہانہ کیوں کرتے ہو۔آپ کی اس تحریر پر مجھ کو رونا آتا ہے۔صاحب میں نے کب