مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 640 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 640

کارروائی کرنا کسی صوفی صافی کا کام نہیں ہے۔جب کہ اس عاجز نے علانیہ اپنی طرف سے دو ہزار جِلد فیصلہ آسمانی کی چھپوا کر اسی غرض سے تقسیم کی ہے تا اگر اس فرقہ مکفرہ میں کوئی صوفی اور اہلِ صلاح موجود ہے تو میدان میں باہر آجائے۔تو پھر بُرقع کے اندر بولنا کس بات پر دلالت کر رہا ہے۔کیا یہ شخص مرد ہے یا عورت جو اپنے تئیں صوفی کے نام سے ظاہر کرتا ہے۔کیا اس عاجز نے بھی اپنا نام لکھنے سے کنارہ کیا ہے۔پھر جس حالت میں میری طرف سے مردانہ کارروائی ہے اور کھلے کھلے طور سے اپنا نام لکھا ہے تو یہ صوفی کیوں چھپتا پھرتا ہے۔مناسب ہے کہ اُسی طرح مقابل پر اپنا نام لکھیں کہ میں ہوں فلاں ابن فلاں ساکن بلدہ فلاں۔اور اگر ایسا نہ کریں گے تو منصف لوگ سمجھ لیں گے کہ یہ کارروائی ان لوگوں کی دیانت اور انصاف اور حق طلبی سے بعید ہے۔اب بالفعل اس سے زیادہ لکھنا ضرورت نہیں۔جس وقت اس صوفی محجوب پردہ نشین کا چھپا ہوا اشتہار میری نظر سے گذرے گا۔اس وقت اس کی درخواست کا مفصّل جواب دوں گا۔ابھی تک میرے خیال میں ایسے صوفی اور عنقا میں کچھ فرق معلوم نہیں ہوتا۔فقط۔والسلام علی من اتبع الھدٰی الراقم خاکسار غلام احمد ۷؍ مئی ۱۸۹۲ء مکرر یہ کہ ایک نقل اس کی چھپنے کے لئے اخبار پنجاب گزٹ سیالکوٹ میں بھیجی گئی تا کہ یہ کارروائی مخفی نہ رہے۔بالآخر یاد رہے کہ اگر اس رقعہ کے چھپنے اور شائع ہونے کے بعد کوئی صوفی صاحب میدان میں نہ آئے اور بالمقابل کھڑے نہ ہوئے اور مرد میدان بن کر بتصریح اپنے نام کے اشتہار شائع نہ کئے تو سمجھا جائے گا کہ دراصل کوئی صوفی نہیں صرف شیخ بٹالوی کی ایک مفتریانہ کارروائی ہے۔فقط جواب الجواب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ بعد الحمد والصلٰوۃ۔بخدمت میرزا غلام احمد صاحب۔سلام مسنون۔آپ کا عنایت نامہ مورخہ ۷؍ مئی میرے نیاز نامہ کے جواب میں وارد ہوا۔اُسے اوّل سے آخر تک پڑھ کر سخت افسوس ہوا کہ آپ نے دانستہ ٹلانے کے واسطے سوال از آسمان جواب از ریسمان کے موافق عمل کر کے بچنا