مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 631 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 631

وہ اس مسافر خانہ میں محض متوکلانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔اپنے اوائل ایام میں وہ بیس برس تک انگریزی دفتر میں سرکاری ملازم رہے مگر بباعث غربت و درویشی کے اُن کے چہرہ پر نظر ڈالنے سے ہرگز خیال نہیں آتا کہ وہ انگریزی خوان بھی ہیں۔لیکن دراصل وہ بڑے لائق اور مستقیم الاحوال اور دقیق الفہم ہیں۔مگر بایں ہمہ سادہ بہت ہیں۔اسی وجہ سے بعض مُوَسْوَسِین کے وساوس اُن کے دل کو غم میں ڈال دیتے ہیں لیکن اُن کی قوتِ ایمانی جلد اُن کو دفع کر دیتی ہے‘‘۔اس کے بعد مخالفت کے اظہار پر حضرت اقدس ؑنے مندرجہ ذیل مضمون لکھا:۔مکتوب نمبر ۶۰ میر عباس علی صاحب لدہانوی چوں بشنوی سخنِ اہل دل مگو کہ خطا است سخن شناس نۂٖ دلبرا خطا اینجا است یہ میر صاحب وہی حضرت ہیں جن کا ذکر بالخیر مَیں نے ازالہ اوہام کے صفحہ ۷۹۰ میں بیعت کرنے والوں کی جماعت میں لکھا ہے۔افسوس کہ وہ بعض موسوسین کی وسوسہ اندازی سے سخت لغزش میں آگئے بلکہ جماعت اعدا میں داخل ہو گئے۔بعض لوگ تعجب کریں گے کہ اُن کی نسبت تو الہام ہوا تھا کہ ۔۱؎ اس کا یہ جواب ہے کہ الہام کے صرف اس قدر معنی ہیں کہ اصل اُس کا ثابت ہے اور آسمان میں اُس کی شاخ ہے اس میں تصریح نہیں ہے کہ وہ باعتبار اپنی اصل فطرت کے کس بات پر ثابت ہیں۔بِلا شُبہ یہ بات ماننے کے لائق ہے کہ انسان میں کوئی نہ کوئی فطرتی خوبی ہوتی ہے جس پر وہ ہمیشہ ثابت اور مستقل رہتا ہے اور اگر ایک کافر کفر سے اسلام کی طرف انتقال کرے تو وہ فطرتی خوبی ساتھ ہی لاتا ہے اور اگر پھر اسلام سے کفر کی طرف انتقال کرے تو اُس خوبی کو ساتھ ہی لے جاتا ہے کیونکہ فطرت اللہ اور خلق اللہ میں تبدّل اور تغیر نہیں۔افراد نوعِ انسان مختلف طورکی کانوں کی طرح ہیں۔کوئی سونے کی کان، کوئی چاندی کی کان، کوئی پیتل کی کان۔پس اگر اس الہام میں میر صاحب کی کسی فطرتی خوبی کا ذکر ہو جو غیر متبدل ہو تو کچھ عجب نہیں