مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 627 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 627

تا اُن کی مقبولیت کی وجہ سے وہ تحریریں بِلا عذر قبول کی جائیں۔بہرحال اب ہم اس خط کو دعا پر ختم کرتے ہیں اور مرزا صاحب کے معتقدین کو برادرانہ نصیحت دیتے ہیں کہ وہ ایسے خیالات دور از صداقت و دیانت مرزا صاحب کی طرف منسوب نہ کریں۔۱؎ وصَلّ علی نبیک وحَبِیبک محمّدٍ وآلہٖ وسلّم وتوفّنا فی امتہٖ وابعثنا فی امتہٖ واٰتنا ما وعدت لِاُمتہٖ۔ربنا اننا اٰمَنَّا فاکتُبنافی عبادک المومنین۔۔۱؎ ٭ خاکسار غلام احمد۔از قادیان بتاریخ ہشتم ماہ رمضان المبارک ۱۳۰۲ھ مطابق ۲۲؍ جون ۱۸۸۵ء مکتوب نمبر۵۷ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ از خاکسار غلام احمد باخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ خط آںمخدوم پہنچا۔یہ عاجز بباعث دردِ سر و درد پہلو اس قدر بیمار رہا کہ بعض اوقات یہ عارضہ مقدمہ موت جو ہریک بشر کیلئے ضروری ہے معلوم ہوتا تھا۔اب افاقہ ہے مگر کچھ درد باقی ہے۔اسی وجہ سے تحریر جواب سے معذور رہا۔آپ کا خط جو استفسار اختلافات نماز میں ہے وہ بھی اس عاجز کے پاس رکھا ہے مگر کیا کِیا جائے صحت پر موقوف ہے۔بمبئی والے سوداگر کی بدمعاملگی ایک ابتلاء ہے اس میں صبر بہتر ہے۔مقدمہ سازی و مقدمہ بازی دنیا داروں کا کام ہے جس کو خدا تعالیٰ نے بصیرت بخشی ہے وہ سب امور خدا تعالیٰ کی طرف سے دیکھتا ہے۔سو اس میں حضرت خداوند کریم کی کچھ حکمت ہے۔آپ صبر کریں اور خدا تعالیٰ پر توکّل رکھیں۔اور جو کچھ حالت عسر و تنگدستی درپیش ہے۔یہ بھی ابتلا ہے۔ایسے وقتوں میں مردانِ خدا اُس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور دعا اور استغفار اور