مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 623
گئے ہیں وید ہی سمجھتے ہیں۔جیسے داراشکوہ نے بعض اپنشدوں کا ترجمہ بھی کسی پنڈت سے لکھوا کر ایک رسالہ تالیف کیا ہے لیکن جاننا چاہئے کہ یہ لوگ صریح غلطی پر ہیں۔ویدوں اور اپنشدوں کے مضامین میں کچھ تعلق ہی نہیں بلکہ وہ خیالات جو اُپنشدوں میں درج ہیں صرف برہمنوں کے دلوں کی تراش خراش ہیں اور ان خیالات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان وغیرہ مخلوق پرمیشر کے وجود کا ایک ٹکڑہ ہے اور اسی سے نکلتا ہے اور اُسی میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ صورت دخول اور خروج کی ہمیشہ بنتی رہتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیالات برہمنوں نے ایک مدت کے بعد بدھ مذہب والوں سے لئے ہیں اور یہ اس زمانہ کے خیالات ہیں کہ جب برہمن لوگ وید کی تعلیم سے بیزار ہو چکے تھے اور ان کا منشا تھا کہ بجائے تعلیم وید کے ان خیالات کو جو اُپنشدوں میں درج ہیں شائع کیا جائے۔مگر باوجود اس کے پھر بھی برہمن وید کے دیوتاؤں سے الگ نہیں ہوئے اور اُن کی پرستش سے کنارہ نہیں کیا بلکہ صدہا طرح کی اور اور مشرکانہ باتیں حاشیہ کے طور پر چڑہا دیں۔اور کئی طرح کے جھوٹے قصے اور کتھا اور کہانیاں برمہا اور بشن اور مہادیو اور اِندر وغیرہ کے بارہ میں لکھ ڈالیں اور کئی پشتک اپنی طرف سے تالیف کرکے یہ مشہور کرنا چاہا کہ یہ بھی وید رنک یعنی وید کی خبریں ہیں۔چنانچہ انہیں میں سے وہ اُپنشدیں بھی ہیں جن کا بعض ناواقف مسلمانوں نے ترجمہ بھی کیا تھا اور اپنی اوپری واقفیت سے یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہی وید ہیں۔مگر اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ کوئی امر مشتبہ نہیں رہ سکتا۔وہی وید جو برہمنوں کے تہہ خانوں میں چُھپے ہوئے تھے اب کتب فروشوں کی دوکانوں پرچَھپے ہوئے رکھے ہیں۔اس مقام پر ہم بڑے افسوس سے لکھتے ہیں کہ مرزا جان جاناں صاحب نے کہ جو نقشبندی فقیروں میں سے ایک نامی اور مشہور بزرگوار ہیں خواہ نخواہ دخل درمعقولات دے کرکے ویدوں کے بارہ میں ایک مکتوب کسی اپنے مرید کے نام لکھا ہے اور اس میں ویدوں کی تعریف کی ہے کہ وہ شرک اور مخلوق پرستی سے پاک ہیں اور توحید کی تعلیم ان میں بھری ہوئی ہے۔اب جب ہم ایک طرف ویدوں کی مشرکانہ تعلیم اور ملحدانہ عقائد کو بچشم سر دیکھتے ہیں اور پندرہ کروڑ ہندوؤں کو اُس میںمبتلا پاتے ہیں اور دوسری طرف مرزا صاحب کا یہ مکتوب پڑھتے ہیں جس کو انہوں نے نہایت سادہ دلی اور لاعلمی سے لکھاہے تو ہم بجز اس کے کہ حضرت مرزا صاحب کے حق میں دعائِ مغفرت چاہیں اور خدا تعالیٰ سے اُن کی خطا کی معافی چاہیں اور کسی طرح سے اُن کے کلام پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔مرزا صاحب نے نہایت